Al-Risala · February 1998 · page 46

متفرق ات سفر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۶

۵- ۵ اگست، ۱۹۹ کو آل انڈیا ریڈیو کی نئی دہلی کی ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر آزادی کے بعد کے ہندوستان میں سدبھاؤنا کے مسئلے سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مل جل کر رہنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اگر انسان کو اپنی حالت پر رہنے دیا جائے تو فطرت کی رہنمائی میں اپنے آپ وہ مل جل کر رہتا ہے۔ مگر ہمارے ملک میں دو اسباب سے فطرت کے اس نظام میں خلل پیدا ہوا ہے - ایک ، اخبارات کی یک طرفہ رپورٹنگ۔ دوسرے ، لیڈروں کی جذباتی سیاست ۔

۶۔ ہندی اخبار راشٹریہ سہارا کی نمائندہ مسز فرحت رضوی نے ۸ اگست ، ۱۹۹ء کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق ہندوستان کے حال اور مستقبل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوستان کے مستقبل کی تعمیر کے لیے واحد نکاتی فارمولا ایجوکیشن ہے۔ اگر ملک میں تعلیم عام ہو جائے تو اس کے تمام مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے ۔ ۷۔ ہندی روزنامہ جن ستَّا کے نمائندہ مسڑ طاہر نے ۸ اگست ، ۱۹۹ء کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق پچھلے پچاس سالہ ہندوستان سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوستان کی مصیبت دو چیز ہے۔ اخبار اور نیتا۔ یہ دونوں کے دونوں منفی رول ادا کر رہے ہیں۔ اگر یہ دونوں مثبت رول ادا کریں تو دیش کے سارے معاملات اپنے آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔

۸۔ بی بی سی کے نمائندہ مسٹر شکیل اختر نے ۱۲ اگست ، ۱۹۹ء کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر پچھلے ۵۰ سال کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کے حالات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ، ۴۷ کے بعد ملکی لیڈروں نے سیکولرزم کو اختیار کیا۔ یہ بہت صحیح فیصلہ تھا۔ اس فیصلے کی وجہ سے مسلمانوں کو غیر معمولی فائدے حاصل ہوئے ۔ ۹۔ انڈیا انٹرنیشنل سنٹر، نئی دہلی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایکولوجی کی طرف سے ، ۱۷؍اگست اگست ، ۱۹۹ء کو ایک نیشنل سمپوزیم ہوا۔ اس کا عنوان تھا : اگلے پچاس سال کے لیے انڈیا کا ایجنڈا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمارے لیے مستقبل کا واحد نکاتی فارمولا ایجوکیشن ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page