Al-Risala · February 1998 · page 48

متفرق ات سفر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۸

بارے میں بنیادی طور پر دو تصور ہیں۔ ایک وحدت الوجود اور دوسرے توحید۔ وحدت الوجود کے نظریہ کو میں غلط سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک صحیح مذہبی نظریہ وہی ہے جس کو اسلام میں توحید کہا گیا ہے۔

۱۷۔ ۶ ، اکتوبر، ۱۹۹۹ء کو وینس (اٹلی) میں امن کے موضوع پر ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع سے متعلق ایک مقالہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ مختلف ملکوں کے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اسلام میں امن اور انسانیت اور روحانیت کے تصور کو واضح کیا۔

۱۸۔ تل ابیب (فلسطین) میں امن عالم کے موضوع پر ایک انٹرنیشنل کانفرنس ۱۹-۲۰ اکتوبر، ۱۹۹۹ء کو ہوئی ۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور امن (پیس) کے موضوع پر ایک پیپر پیش کیا۔ یہ پیپر ان شاء اللہ الرسالہ انگریزی میں شائع کر دیا جائے گا۔ اس سفر میں انھوں نے مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی بھی زیارت کی۔

۱۹۔ ۲۶ اکتوبر، ۱۹۹۹ء کو گاندھی پیس فاؤنڈیشن (نئی دہلی) میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں اعلی تعلیم یافتہ ہندو صاحبان شریک ہوئے ۔ اس کاانتظام سوادھیائے کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور ملک کے موجودہ حالات پر اظہار خیال کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان میں سیاسی عدم استحکام کامسئلہ بظاہرنامعلوم مدت تک کے لیے پیدا ہو گیا ہے ۔ لیکن اگر ملک میں سماجی سطح پر استحکام کی حالت پیدا ہو جائے تو سیاسی اُدل بدل کے باوجود ملک ترقی کرتا رہے گا ۔ جیسا کہ مثال کے طور پر اٹلی میں ہے۔ اور خود ہندوستان میں زرعی دور میں تھا ۔

۲۰۔ گاندھی پیس فاؤنڈیشن (نئی دہلی) میں ۴ نومبر، ۱۹۹۹ء کو ایک آل انڈیا سمپوزیم ہوا۔ اس کا موضوع سرو دیہ الائنس تھا ۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور صدر جلسہ کی حیثیت سے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ہم لوگوں کو چاہیے کہ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے غیر سیاسی میدان میں سماجی تعمیر کا کام کریں۔ اگر مستحکم سماج بن جائے تو سیاسی اُدل بدل کے باوجود ملک ترقی کرتا رہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page