Al-Risala · March 1999 · page 15

غیر ذمہ دار صحافت

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۱۵

پہلے سنسکرت میں اترا تھا اور پھر اس کا عربی ترجمہ موجودہ قرآن کی صورت میں کیا گیا۔ ‘‘۔ کوئی شخص اگر اس قسم کی لغوبات کہے تو سننے والے کے اندر اتنی عقل ہونی چاہئے کہ وہ اس کو سنتے ہی اس کو رد کر دے۔ وہ کہے کہ مولانا سید سلیمان ندوی جیسا عالم ایسا کبھی نہیں لکھ سکتا کیوں کہ یہ سراسر ایک جاہلانہ بات ہے اور کوئی عالم اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ ایسی جاہلانہ بات کہہ کر اہل علم کی نظر میں اپنے آپ کو مضحکہ خیز بنا لے۔

آخر میں میں اس سلسلہ میں دو باتیں کہوں گا۔ ایک یہ کہ میرے بارے میں کوئی رائے خود میرے ماہنامہ الرسالہ یا میری کتابوں کے ذریعہ قائم کرنا چاہئے۔ دوسرے اخباروں کی بنیاد پر رائے قائم کرنا ہر گز درست نہیں۔ ان اخباروں میں ہر ایک کے بارے میں بے اصل باتیں چھپتی رہتی ہیں۔ کسی . شخص کے خیالات کا صحیح ماخذ اس کی اپنی تحریریں ہیں نہ کہ دوسروں کی شائع کردہ اخباری رپورٹیں ۔ دوسری بات یہ کہ میں تقریباً چالیس سال سے اسلام کی خدمت کر رہا ہوں۔ اس دوران مضامین اور کتابوں کی صورت میں میرے لاکھوں صفحات چھپ چکے ہیں۔ ان تحریروں میں ہمیشہ اسلام کی صداقت، خدا کی برتری، قرآن کی عظمت اور پیغمبر اسلام کے کارنامے بیان کئے جاتے ہیں۔ میری بیشتر کتابوں کا موضوع توحید کا اثبات اور شرک و الحاد کی تردید ہوتا ہے۔ حتی کہ معروف طو ر پر یہی میرا خاص موضوع ہے۔ میری کتابیں اس کی گواہی دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر مذہب اور جدید چیلنج، اللہ اکبر، عظمت اسلام، دین حق وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ میری چالیس سالہ اسلامی خدمات نے میری حیثیت عرفی یہی بنا دی ہے کہ میں اسلام کی صداقت کو ثابت کرنا اور غیر اسلام کو دلائل کے ذریعہ رد کرنا اپنا مشن بنائے ہوئے ہوں ۔ میری تمام تحریروں اور تقریروں کا مرکزی موضوع یہی ہے۔ ایسی حالت میں اگر کسی بد نام اخبار میں میرے بارے میں کوئی ایسی بات چھپے جو میری حیثیت عرفی کے خلاف ہو تو عقل اور اسلام دونوں کا تقاضا ہے کہ اس کو پڑھنے والے فوراً ہی یہ کہہ کر اس کو رد کر دیں کہ : سبحنک هذا بهتان عظيم (النور ١٦)

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page