بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۱۶
بھوپال کا سفر
مہاتما گاندھی ۱۲۵ واں جنم درش سماروہ سمیتی مدھیہ پردیش کے تحت بھوپال میں آل انڈیا سیمینار ہوا۔ اس کے پروگرام یکم اکتوبر ۱۹۹۸ سے شروع ہو کر ایک ہفتہ تک جاری رہے۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس میں شرکت کی۔ اس موقع پر اظہار خیال کے لئے مجھے حسب ذیل دو عنوان دیئے گئے تھے۔
ا۔ ملٹی کلچر اور یونی کلچر ۲۔ امن کی طاقت اور جنگ کی طاقت اس سفر میں مذکورہ دونوں موضوع پر خطاب کے علاوہ بھوپال کے بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ مقامی مسلمانوں کے کئی اجتماع میں اظہار خیال کا موقع ملا اور دوسرے مختلف تجربات پیش آئے۔ اس کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔
۳۰ ستمبر ۱۹۹۸ کو مجھے دہلی سے روانہ ہو کر بھوپال پہنچنا تھا۔ آج رات کو ایک عجیب خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ میں کسی مسلم ملک میں ہوں۔ وہاں حکومت سازی کے لئے الیکشن کرائے گئے ہیں۔ اس الیکشن میں ایک مسلم جماعت کامیاب ہوئی ہے۔ اس کے بعد اس مسلم جماعت کے لیڈر ایک جگہ اکٹھا ہوئے۔ یہ غالباً کسی مسجد کا صحن تھا۔ یہاں ان لوگوں نے اس مسئلہ پر بات چیت شروع کی کہ حکومت کس طرح بنائی جائے گی، اس کی پالیسی کیا ہوگی، وزارتی عہدوں کی تقسیم کس طرح کی جائے گی۔ اس بات چیت کے دوران لوگوں میں اختلاف ہوا۔ اس کے بعد وہ لوگ آپس میں لڑنے لگے۔ یہاں تک کہ باقاعدہ ہاتھا پائی کی نوبت آگئی۔ یہ لیڈر جو تقریباً ۲۰ کی تعداد میں تھے، انھوں نے ایک دوسرے کو مار کر فرش پر گرا دیا۔ میں نے دروازے سے جھانک کر دیکھا تو ان کے جسم نیم مردہ حالت میں فرش پر پڑے ہوئے تھے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے سیاسی لیڈر جس طرح آپس میں لڑ رہے ہیں یہ خواب
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues