بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۱۷
غالباً اسی کی ایک تعبیر ہے۔
۳۰ ستمبر ۱۹۹۸ کی شام کو فلائٹ نمبر ۳۴۳ کے ذریعہ دہلی سے بھوپال کے لئے روانگی تھی۔ گھر سے ائیرپورٹ تک کا سفر معمول کے مطابق ہوا۔ سڑک پر کاروں کی کثرت تھی۔ مغرب کے ترقی یافتہ شہروں میں بھی کاروں کی کثرت ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ وہاں معیاری سڑک بھی موجود ہوتی ہے جس پر یہ کاریں دوڑ سکیں۔ ہر طرف صفائی ہوتی ہے۔ فضا بڑی حد تک کثافت سے پاک ہوتی ہے۔ سڑکوں پر ہر آدمی اپنی لین میں گاڑی چلاتਾ ہے۔ ہمارے یہاں کار تو آگئی مگر صحیح معنوں میں ہمارے یہاں اس کے مطابق سڑک کا نظام matching road infrastructure موجود نہیں۔
یہی دہلی کا قدیم ائیرپورٹ ہے جس کو پہلے پالَم ائیرپورٹ کہا جاتا تھا۔ چند سال پہلے آگ لگنے سے یہ ائیرپورٹ جل گیا۔ اس کے بعد یہاں از سر نو نیا ائیرپورٹ بنایا گیا ہے۔ نیا ائیرپورٹ پہلے ائیرپورٹ کے مقابلہ میں بہت زیادہ بڑا ہے۔ وہ قدیم طرز کا تھا یہ بالکل جدید طرز کا ہے۔ اس دنیا میں امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ ہر تباہی کے بعد یہاں نیا شاندار ترامکان ابھر آتا ہے۔ ۳۰ ستمبر کے اخبار میں دوسری خبروں کے ساتھ ایک خبر یہ تھی کہ روس کی حکومت نے کھلے طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی مخالفت کے باوجود انڈیا کے لئے اس کی فوجی سپلائی (military supplies) جاری رہیں گی۔ یہ خبر اس طرح تھی جیسے کہ روس کی حکومت انڈیا کی بہت ہمدرد ہے اور وہ کسی کی مخالفت کی پرواہ کئے بغیر اس کی فوجی امداد کر رہی ہے۔ حالانکہ یہ مکمل طور پر ایک تجارتی معاملہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ روس کو اپنی تباہ شدہ اقتصادیات کو سنبھالنے کے لئے ڈالر کی شدید ترین ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں ہندوستان اس کا زبردست معاون ہے کیوں کہ ہندوستان روس سے اس کے غیر معیاری ہتھیاروں کو خریدنے کے لئے ہر سال روس کو دو بلین ڈالر دے رہا ہے۔ ہندوستان میں کام کرنے والے روس کے فوجی ماہرین کی بڑی بڑی
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues