بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۱۸
تنخواہیں اس کے علاوہ ہیں۔
انڈین ائرلائنز کے کرایہ میں یکم اکتوبر ۱۹۹۸ء سے ۱۱ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ چنانچہ دہلی سے بھوپال آتے ہوئے سابقہ کرایہ پر یہاں آیا مگر ۳ اکتوبر کو جب میں بھوپال سے دہلی کے لئے واپس ہوا تو میرے میزبانوں کو مزید رقم ادا کر کے اس کو دوبارہ کنفرم کرانا پڑا۔ اس قسم کا اضافہ انڈین ائرلائنز میں برابر ہوتا رہتا ہے۔ پہلی بار جب میں انڈین ائرلائنز کے ذریعہ بھوپال آیا تو اس وقت اس کا کرایہ تقریبا دو ہزار روپیہ تھا۔ اب یہ کرایہ تقریبا سات ہزار روپیہ تک پہنچ گیا ہے۔ حکومت جب بھی انڈین ائرلائنز کے کرایہ میں اضافہ کرتی ہے تو اس کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ ائرلائنز کو گھاٹا ہو رہا ہے۔ یہ بیان غلط فہمی پیدا کرنے والا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ انڈین ائرلائنز اور ائر انڈیا دونوں گھاٹے کا شکار ہو رہی ہیں مگر اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ ہندوستان کی یہ ہوائی کمپنیاں خالص تجارتی اصول پر چلائی جارہی ہیں پھر بھی یہ خسارہ کیوں ہے۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ انڈین ائرلائنز اور ائر انڈیا میں ہر سطح پر لوٹ جاری ہے۔ اس لوٹ نے ان سرکاری اداروں کو خسارہ میں مبتلا کر رکھا ہے۔
۳۰ ستمبر کے اخبار میں ایک خبر یہ تھی کہ حکومت ہند نے ایک جائزے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ تیرہ سو قوانین کو ختم کر دیا جائے۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں ویلفیئر اسٹیٹ قائم کرنے کے نام پر بے شمار قوانین بنائے گئے۔ ان کی تعداد تیرہ سو نہیں بلکہ تیرہ ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ یہ قوانین ملک کی ترقی میں صرف رکاوٹ ثابت ہوئے۔ ان قوانین نے سرکاری کارکنوں کے اختیار میں غیر معمولی اضافہ کر دیا جس کا لازمی نتیجہ کرپشن میں اضافہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ تیرہ سو قوانین کا خاتمہ قانون کے مصنوعی جھاڑ جھونکار کے صرف ایک چھوٹے سے جز کا خاتمہ ہے۔ اگر ملک کو ترقی کی طرف لے جانا ہے تو ان سارے ہی قوانین کو ختم کرنا ہوگا جو ویلفیئر سوسائٹی کے نام پر بنائے گئے ہیں۔ زندگی کا ایک ہی صحیح قانون ہے اور وہ نیچر ہے۔ انسانی قوانین نیچر کے صحیح نظام میں صرف بیجا مداخلت ہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام مصنوعی
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues