بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۱۹
قوانین کو ختم کر دیا جائے تاکہ انسانیت کا قافلہ فطرت کی شاہراہ پر چلنے لگے۔ ۳۰ ستمبر کی شام کو جب جہاز مجھ کو لے کر بھوپাল کی طرف اڑا تو اچانک یہ سوچ کر میرے جسم میں تھر تھری پیدا ہو گئی کہ اسی طرح ایک روز موت کا فرشتہ آئے گا اور مجھ کو ایک دنیا سے اٹھا کر ایک اور سواری میں رکھے گا اور دنیا سے آخرت کی طرف روانہ ہو جائے گا۔ میرا موجودہ سفر ایک گھنٹہ پانچ منٹ کا ہے۔ دوسرا سفر شاید ایک منٹ پانچ سیکنڈ کا ہو۔ یہ ایک منٹ اور پانچ سیکنڈ اتنے زیادہ قیامت خیز ہوں گے کہ شاید کائنات کی پوری تاریخ اس میں سمٹ جائے۔ یہ مختصر لمحہ شاید میری زندگی کا طویل ترین لمحہ ہو گا۔ مگر مجھے یا کسی کو نہ اس کے آغاز کا علم ہے اور نہ اس کے انجام کا علم۔ دہلی سے بھوپাল تک کی پرواز ایک گھنٹہ پانچ منٹ کی تھی۔ یہ جہاز بھوپাল ہوتے ہوئے اندر در جاتا ہے۔ جہاز کے اندر لوگ بے فکری کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے نظر آئے۔ کچھ لوگ ہنس ہنس کر اپنے الفاظ بکھیر رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ لوگوں کی اس بے فکری کی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی پسندیدہ منزل کی طرف جا رہے ہیں۔ اگر انھیں معلوم ہو کہ ہر ایک کے لئے اچانک ایک اور منزل آنے والی ہے اور وہ موت کی منزل ہے اور یہ منزل ان پر کسی بھی لمحہ آسکتی ہے۔ اگر لوگوں کو اس حقیقت کا زندہ شعور حاصل ہو تو ان کے تہے بند ہو جائیں اور وہ بولنے سے زیادہ چپ رہنا پسند کریں۔
جہاز تقریباً ایک گھنٹہ لیٹ ہو کر بھوپال پہنچا۔ ائر پورٹ پر کافرنس کی طرف سے مسٹر کنک تیواری اور ان کے ساتھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ حلقہ ارساله کے رفقا بھی آئے ہوئے تھے۔ ان لوگوں سے ملنے کے بعد ائر پورٹ سے شہر کے لئے روانگی ہوئی راستہ میں ہر طرف دسہرہ کی دھوم نظر آئی لاؤڈا سپیکر پر گانے کا شور اور بجلی کی روشنیوں کی جگمگاہٹ کے درمیان ہماری گاڑی آگے بڑھتی رہی۔ لوگ اس قسم کی چیزوں کو جشن کا نام دیتے ہیں اور پھر لطف اندوز ہوتے ہیں مگر میرے لئے اس قسم کی چیزیں ایک مصیبت سے کم نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues