وقت کی پابندی
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۱۴
وقت کی پابندی
اسلام میں جو عبادتیں فرض کی گئی ہیں۔ وہ سب کی سب وقت اور مدت کے ساتھ فرض کی گئی ہیں۔ مثلاً روزہ اور حج کی فرضیت سال کے مخصوص مہینوں میں ہے۔ ایسا نہیں کیا گیا کہ جب چاہے روزہ رکھ لو اور جب چاہے حج ادا کر لو۔ نماز کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بے شک نما زاہل ایمان پر مقرروقت کے ساتھ فرض ہے (ان الصلوة كانت على المؤمنين كتابا موقوتا ) النساء ۱۰۳ نماز کو متعین وقت پر ادا کرنے کا حکم کوئی سادہ بات نہیں، یہ نمازیوں کی پوری زندگی کی تنظیم وتربیت ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ مسجدیں متقیوں کا گھر ہیں ( المساجد بيوت المتقين ) دوسرے لفظوں میں یہ کہ مسجد تقویٰ کی تربیت گاہ کر ہے۔ اس تربیت کا ایک اہم جز‘ بلا شبہ وقت کی پابندی ہے۔ اہل ایمان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی عبادتوں کو ان کے مقررہ وقت پر ادا کریں۔ اور اسی طرح اپنی زندگی کے تمام معاملات کو نظم وضبط اور ڈسپلن کے اصول پر قائم کریں۔
اہل ایمان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ گھڑی کے مطابق اپنے رات اور دن کا نقشہ بنائیں ۔ ہر کام کو اس کے متعین وقت پر ادا کریں۔ جب بھی کوئی وعدہ کریں تو ٹھیک وقت پر اس کو پورا کریں۔ ہر وہ معاملہ جس کا تعلق وقت سے ہو اس کو وہ عین اس کے مقررہ وقت پر انجام دیں۔ عبادتوں کو وقت کے ساتھ باندھ کر یہ سبق دیا گیا ہے کہ مؤمن کی پوری زندگی اوقات کے نظام کے ساتھ بندھی ہوئی ہونی چاہئے۔ عام زندگی میں وقت کی پابندی نہ کرنا بھی اتنا ہی غیر اسلامی ہے جتنا نماز کے معاملہ میں وقت کی پابندی نہ کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues