بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۲۰
پہلے ہم لوگ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی (فون نمبر 74981) کے مکان پر پہنچے۔ یہاں حلقۂ الرسالہ کے کئی لوگ موجود تھے۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی (ریڈر شعبہ عربی بھوپال یونیورسٹی) کے ساتھ ایک مہینہ پہلے سخت حادثہ پیش آیا تھا ایک ٹرک ان کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ جس کے نتیجہ میں انھیں سخت چوٹیں آئیں تاہم اب وہ بڑی حد تک صحت مند ہو چکے ہیں انشا اللہ دو ہفتہ میں مکمل طور پر صحت یاب ہو جائیں گے۔
ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے حادثہ کی روداد بتاتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مصیبت میں بھی رحمت کا پہلو رکھ دیا ہے۔ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات آدمی کے لئے ایک روحانی خوراک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آدمی پر اگر مصیبت نہ پڑے تو وہ ذہنی اور روحانی اعتبار سے ترقی نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی اس بات کی تائید میں میں نے یہ شعر انھیں سنایا: اذا اشتدت بك البلوى ففكر في الم نشرح فعر سير بين يسرين اذا فكرته ففرح یہاں سے روانہ ہو کر ہم لوگ لیک ویو اشوک ہوٹل میں پہنچے یہاں مجھے کمرہ (نمبر ۳۰۸) میں ٹھہرنا تھا۔ میرے ہمراہ یہاں جناب عبدالحمید ندوی بھی تھے۔ ۳۰ ستمبر ۱۹۹۸ کی شام کو سورج غروب ہوا تو میں دہلی میں تھا۔ اگلے دن یکم اکتوبر ۱۹۹۸ء کی صبح کو نیا سورج نکلا تو میں بھوپال میں تھا۔ اس کو سوچ کر مجھے ایک تاریخی واقعہ یاد آیا۔ عمر بن عبدالعزیز اموی اپنی ابتدائی زندگی میں ایک عام آدمی کی مانند تھے۔ وہ شاندار کپڑے پہنتے اور بہت زیادہ خوشبو لگاتے تھے وہ جدھر سے گزرتے ان کی شان و شوکت کی بنا پر لوگ انھیں دیکھنے لگتے۔ یہاں تک کہ ان کی چال کو مشیۃ العمریہ کہا جانے لگا۔ اس کے بعد ایک واقعہ ہوا جس نے ان کی زندگی کو بالکل بدل دیا۔ ایک روز وہ اپنی ایک خادمہ پر غصہ ہو گئے اور اس کو مارنا چاہا، خادمہ کی زبان سے نکلا : اذ كر ليلة صبيحتها يوم القيامة (اس رات کو یاد کرو جس کی صبح قیامت ہوگی) یہ الفاظ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز کانپ اٹھے اور اس کے بعد ان کی زندگی میں وہ انقلاب آگیا جس کو ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں۔ اسی قسم کے انقلابی تجربوں کو شاعر نے اپنی زبان میں اس طرح
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues