بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۲۱
بیان کیا ہے:
صد سالہ دور چرخ تھا ساغر کا ایک جام نکلے جو میکدے سے تو دنیا بدل گئی بھوپال سے کرائیکل نام سے ایک انگریزی اخبار نکلتا ہے اس کے صفحہ اول پر ایک خبر تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ۱۴ فروری ۱۹۹۸ء کو کوئمبتور میں مسٹر لال کرشن اڈوانی کے جلسہ میں جو بم دھماکہ ہوا تھا اس کے سلسلہ میں پولس نے اسپشل انکوائری کی اور اب ۲۶ مسلمانوں پر کیس قائم کیا گیا ہے۔
اس واقعہ کے بعد کوئمبتور کے مسلم نوجوانوں کی ایک خفیہ تنظیم الامہ کا انکشاف ہوا جس کے بانی کا نام ایس اے پاشا بتایا گیا ہے۔ پر جوش نوجوانوں کی یہ تنظیم بابری مسجد کے حادثہ کے بعد بنائی گئی تھی۔ ان لوگوں نے بڑی تعداد میں بم تیار کئے تھے اور ان کا منصوبہ یہ تھا کہ جگہ جگہ بم دھماکہ کرکے بابری مسجد کا انتقام لیں مگر عملاً اس کا نتیجہ الٹا ہوا۔ پولس نے سینکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کر لیا۔ ان کی بری طرح مار پیٹ ہوئی۔ کئی لوگ مر گئے۔ وہ سارے بم پکڑ لئے گئے جو گھروں میں چھپائے گئے تھے۔ سینکڑوں مسلمانوں کی زندگیاں تباہ ہو کر رہ گئیں۔ فساد کے نتیجہ میں مسلمانوں کو جو اقتصادی نقصان پہنچا وہ اس کے علاوہ ہے۔ اس واقعہ میں سبق کی بات یہ ہے کہ ۱۴ فروری کے بم دھماکہ کے بعد وہاں کی پولس نے زبردست مظالم کئے مگر کوئمبتور یا تامل ناڈ کے مسلمانوں کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ انھوں نے پولس کے مظالم کے خلاف کوئی اخباری دھوم نہیں مچائی۔ اسی طرح تقریباً اسی زمانہ میں مہاراشٹر کے سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ شائع ہوئی جس میں بمبئی کے فساد و دسمبر ۹۲ ء جنوری ۱۹۹۳ء کا ذمہ دار یک طرفہ طور پر ہند ولیڈروں اور پولس کو قرار دیا تھا۔ اس رپورٹ کو مہاراشٹر کی بھاجپا، شو سینا حکومت نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ وہ اینٹی ہندو اور پرو مسلم ہے۔ یہ ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ تھا۔ مگر مہاراشٹر کے مسلمانوں نے اس کو کامل خاموشی کے ساتھ گوارہ کر لیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues