Al-Risala · March 1999 · page 22

بھوپال کا سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۲۲

یہ ہندوستانی مسلمانوں میں ایک سیاسی تبدیلی کی علامت ہے۔ مولانا شبلی نعمانی کے آخری زمانہ میں مسلمانوں میں ایک تبدیلی کا مشاہدہ ہوا تھا۔ اس پر مولانا شبلی نے ۱۹۱۲ میں ایک طویل مقالہ لکھا تھا جس کا عنون تھا مسلمانوں کی پولیٹیکل کروٹ۔ اب ۸۵ سال بعد ہندوستان کے مسلمانوں میں اس سے بھی زیادہ بڑی پولیٹیکل تبدیلی آئی ہے۔ یہ تبدیلی حیرت انگیز طور پر عین وہی ہے جس کے لئے الرسالہ کے ذریعہ پچھلے ۲۵ سال سے کوشش کی جارہی تھی۔ یعنی واقعات پر منفی رد عمل کے بجائے حقیقت پسندانہ روش اختیار کرنا۔

بھوپال میں میرا قیام جس ہوٹل میں تھا وہ ایک وسیع جھیل کے کنارے واقع ہے۔ ہوٹل کا پشت کا دروازہ کھول کر میں اپنے کمرہ کی بالکنی میں آیا تو سامنے دور تک نہایت پر کشش منظر تھا۔ میں جب بھی اس قسم کے مناظر کو دیکھتا ہوں تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ منظر میرے لئے ایک آئینہ بن جاتا ہے جس میں میں جنت کی جھلک دیکھ سکوں۔ موجودہ دنیا میں تکلیف کے مناظر بھی ہیں اور مسرت کے مناظر بھی۔ تکلیف کے مناظر اس لئے ہیں کہ آدمی ان کو دیکھ کر جہنم کو یاد کرے، اور مسرت کے مناظر اس لئے ہیں تاکہ آدمی جب انہیں دیکھے تو ان میں جنت کی جھلکیاں دکھائی دیں اور پھر اس تجربہ کے بعد جہنم سے ڈرے اور جنت کا حریص بنے۔ بھوپال کے انگریزی روزنامہ "نیشنل میل" کا شمارہ یکم اکتوبر ۹۸ دیکھا اس میں ایک مضمون اسرائیل کے بارے میں تھا اس میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان اور اسرائیل دونوں نے ۲۰ ویں صدی کے وسط سے اپنی زندگی کا آغاز کیا مگر آج دونوں میں غیر معمولی فرق پایا جاتا ہے۔ اسرائیل نے زیرو لیول سے اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا مگر انتہائی چھوٹا ملک ہونے کے باوجود آج وہ ترقی یافتہ ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہندوستان بہت بڑا ملک ہے اور اس کے پاس ہر قسم کے وسائل ہیں مگر ترقی کے اعتبار سے ممالک کی فہرست میں اس کا شمار ۱۳۸ نمبر پر ہوتا ہے۔ جائزہ نگار نے اس فرق کا کوئی سبب نہیں بتایا تھا۔ میرے نزدیک اس کا سبب صرف ایک ہے اور وہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page