بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۲۳
یہ کہ اسرائیل کے باشندوں میں اعلیٰ درجہ کی نیشنل اسپہرٹ پائی جاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہندوستان میں صرف لوٹ کی اسپہرٹ ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
بھائی الطاف بھوپال کی ایک خاص شخصیت ہیں۔ ان سے ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ میری عمر ہجری کلینڈر کے لحاظ سے اب ۷۸ سال ہو رہی ہے۔ اس مدت میں میں نے بہت کچھ پڑھا اور دیکھا۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ انسان کا آخری ٹسٹ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آپ کے اور اس کے درمیان انا کا ٹکراؤ پیدا ہو۔ اس ٹسٹ سے پہلے کسی انسان کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا ممکن نہیں۔ کسی آدمی کا خوش اخلاق یا مخلص ہونا صرف اس وقت ثابت ہوتا ہے جب کہ وہ اس نازک ٹسٹ پر پورا اترے۔
ڈاکٹر حمید اللہ ندوی بھوپال یونیورسٹی میں شعبہ عربی میں ریڈر ہیں۔ ان سے ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ پیغمبر اسلام کی بہت سی سنتیں ایسی ہیں جن کو شاید ہمارے علماء بھی نہیں جانتے، حتیٰ کے شاید وہ لوگ بھی نہیں جنھوں نے سیرت رسول پر بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سے ایک سنت حقیقت پسندی ہے۔
حقیقت پسندی کیا ہے۔ حقیقت پسندی یہ ہے کہ آدمی اپنے خیالات سے باہر کے حالات کو جانے اور اس کی رعایت کرے۔ اس دنیا میں کسی بھی شخص کے لئے حتیٰ کہ پیغمبر کے لئے بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ خارجی پہلوؤں کے علی الرغم اپنے نظریہ کو واقعہ بنا سکے۔ مثال کے طور پر پیغمبر اسلام نے حجتہ الوداع کے موقع پر یہ اعلان فرمایا کہ ایک انسان اور دوسرے انسان میں کوئی فرق نہیں مگر اس کے ڈھائی مہینہ بعد جب یہ نوال پیدا ہوا کہ خلیفہ کس کو بنایا جائے تو حضرت ابو بکر صدیق نے یہ حدیث پیش فرمائی کہ الائمۃ من قریش۔ یعنی خلیفہ صرف قریش میں سے ہوگا ۔ یہ دونوں باتیں واضح طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اصولی طور پر وہی بات درست ہے جس کا اعلان حجتہ الوداع میں کیا گیا تھا۔ مگر اجتماعی زندگی میں ہمیشہ عملی حقیقتوں سے سمجھوتہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues