بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۲۴
کرتا پڑتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو تا کہ نظری معیار دماغ سے نکل کر عالم خارجی میں واقعہ بن جائے۔ مسٹر ایم ہاشم (tel76375) اور مسٹر ایس مسعود حسن (0755-581056 tel)
دونوں صاحبان فارسٹ کے محکمہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی کہ قابل بقا سماج (sustainable society) کیسے قائم ہوتا ہے، اور موجودہ زمانہ میں ایسے سماج کے قیام میں سب سے بڑا خطرہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں مفید باتیں ہوئیں۔ مثلاً انسانی زندگی کے سلسلہ میں درختوں کا کردار اور جانوروں کا سلوک (animal behavior) وغیرہ۔ ایس مسعود حسن صاحب کا سابقہ بار بار جنگلی جانوروں سے پڑا ہے۔ انھوں نے اپنا ایک واقعہ بتایا کہ ایک بار جنگل میں ایک شیرنی نے ایک عورت کا شکار کیا اور اس کو گھسیٹ کر جھاڑی میں لے گئی۔ وہاں اس کے بچے اس کو کھانے لگے۔ جناب حسن صاحب وہاں کے کچھ آدیواسیوں کے ساتھ اس کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ وہ اس جھاڑی کے پاس پہنچ گئے جہاں شیرنی کے بچے شکار کو کھا رہے تھے اور شیرنی وہاں بیٹھی ہوئی ان کی پہرہ داری کر رہی تھی۔ جناب حسن صاحب اور ان کے ساتھی اس وقت صرف پانچ میٹر کے فاصلہ پر تھے۔ شیرنی نے ان لوگوں کو خونخوار نظروں سے دیکھا۔ جناب حسن صاحب کے دوسرے ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں فوراً فائر کرنا چاہئے لیکن جناب حسن صاحب نے سوچا کہ یہ عقل مندی کے خلاف ہو گا۔ کیونکہ اگر ہماری گولی اس کو لگ جائے تب بھی وہ فوراً نہیں مر جائے گی۔ وہ زخمی ہو کر ہمارے اوپر حملہ کرے گی اور اس حملہ میں وہ ہم میں سے کم سے کم دو آدمیوں کو ختم کر دے گی۔
جناب حسن صاحب حیوانات کے سلوک کے بارے میں کافی معلومات رکھتے ہیں۔ چند سیکنڈ کے اندر ان کے ذہن نے یہ فیصلہ کیا کہ اس وقت شیرنی اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے یہاں بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ یہاں سے صرف اس وقت ہٹے گی جب کہ اس کو اپنے بچوں کے بارے میں کوئی خطرہ محسوس نہ ہو ورنہ وہ اپنی جگہ بیٹھی رہے گی۔ یہ سوچ کر جناب حسن صاحب نے اپنے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues