Al-Risala · March 1999 · page 25

بھوپال کا سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۲۵

ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں فوراً اپنے آپ کو یہاں سے پیچھے لے جانا چاہئے۔ چنانچہ وہ اپنے ساتھیوں کے همراه تیزی سے وہاں سے ہٹ کر دور چلے گئے ۔ اس کے بعد شیرنی اپنی جگہ بیٹھی رہی ۔ اس نے ان لوگوں پر حملہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔

میں نے کہا کہ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے ۔ اس دنیا میں ہر آدمی اپنے اپنے انٹرسٹ میں مصروف ہے۔ یہاں کسی انسان کے شر سے بچنے کی واحد کامیاب تدبیر یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس سے دور رکھا جائے ۔ کوئی انسان خواہ بظاہر شریر ہو یا غیر شریر، اس سے خطرہ صرف اس وقت ہے جب کہ آپ اس سے الجھ کر اس کو یہ احساس دلائیں کہ آپ اس کے انٹرسٹ کے لئے خطرہ ہیں۔ جب تک ایسا نہ ہو کوئی انسان یک طرفہ طور پر آپ کے اوپر حملہ کرنے والا نہیں۔ یکم اکتوبر کو ۱۰ بجے ٹی ٹی نگر کی مسجد میں ایک اجتماع ہوا۔ یہاں اسکول اور کالج کے طلبہ شریک ہوئے ، اسی کے ساتھ بڑی عمر کے لوگ بھی موجود تھے۔ میں نے علم کی اہمیت کے موضوع پر خطاب کیا۔ تقریر کے بعد لوگوں نے سوالات کئے جس کا جواب دیا گیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کس طرح کیا جائے۔ میں نے کہا کہ اس کا کوئی لگابندھا طریقہ نہیں۔ دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ معتدل فضا میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان انٹرایکشن ہو۔ مثالوں کے ذریعہ بتایا کہ جب دونوں فرقوں میں نفرت کی فضا نہ ہو اور دونوں کے درمیان آزادانہ اختلاط ہو تو دعوت کا عمل اپنے آپ جاری ہو جاتا ہے۔

ایک سوال یہ تھا کہ ابھی تو مسلمانوں کی اصلاح ہی نہیں ہوئی پھر غیر مسلموں میں اسلام کی دعوت پہنچانے کا کیا سوال ۔ میں نے کہا کہ یہ ایسا ہی ہے کہ ابھی تو مسجد ہی نہیں پھر مدرسہ بنانے کا کیا سوال ہے۔ اگر مدرسہ نہیں ہوگا تو مسجدوں کے لئے امام اور قاری کہاں سے آئیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں بیک وقت کئی کام کرنے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page