Al-Risala · March 1999 · page 26

بھوپال کا سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۲۶

اصلاح کی کوشش بہت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ ہر مسلم ادارہ اور ہر مسلم جماعت اسی کام میں مصروف ہے۔ لیکن غیر مسلموں میں دعوت کا کام سرے سے نہیں ہو رہا ہے۔ اس لئے میں دعوت پر زور دیتا ہوں۔

مسٹر راہل پر دھان نے یہ سوال کیا کہ ہندوؤں میں بھگوان کا آکار مانا جاتا ہے چنانچہ بھگوان کو ہم مورتی کے روپ میں دیکھ لیتے ہیں مگر اسلام میں خدا کا کوئی آکار نہیں ہے اس لئے اسلام میں خدا کو دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔

میں نے کہا کہ جس چیز کو آپ بھگوان کی مورتی کہتے ہیں اس کا کیا ثبوت ہے کہ وہ بھگوان کا آکار ہے۔ کیا وہ مورتی خود بھگوان نے آسمان سے اتاری ہے یا کسی نے بھگوان کو اس کے اصلی روپ میں دیکھا ہے، اور پھر اس نے اس کی نقل مورتی کی صورت میں تیار کی۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی صورت نہیں۔ جس چیز کو آپ بھگوان کی مورتی کہتے ہیں وہ خود آپ کے اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی شکلیں ہیں پھر ایسی خود ساختہ مورتی کو دیکھنا خدا کو دیکھنا کیسے ہو جائے گا۔ دنیا میں ہم بہت سی چیزوں کو اس کی مجسم صورت میں نہیں دیکھتے بلکہ تصوراتی طور پر دیکھتے ہیں مثلاً لا آف موشن وغیرہ۔ پھر جس طرح کائنات کی دوسری بہت سی حقیقتوں کو ہم دیکھے بغیر مانتے ہیں اسی طرح ہم خدا کو بھی دیکھے بغیر مان سکتے ہیں۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ ایک پرچہ میں آپ کی تصویر چھپی ہے جس میں آپ آرتی اتارتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ اس کی حقیقت کیا ہے۔ کیا یہ واقعہ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو بہت آسان ہے، میں آپ کی بھی ایک ایسی تصویر بنا سکتا ہوں جس میں آپ بھی آرتی اتارتے ہوئے دکھائی دیں، کوئی بھی فوٹو گرا فرکسی بھی شخص کو اس قسم کے کسی عمل کے ساتھ دکھا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ آج سے ساٹھ سال پہلے نو جوانی کی عمر میں میں فیض آباد گیا۔ وہاں میرے ایک تعلیمی ساتھی تھے جن کا نام عطاء الرحمن تھا۔ وہ مجھ کو ایک فوٹو

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page