Al-Risala · March 1999 · page 27

بھوپال کا سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۲۷

گرافر کے یہاں لے گئے جہاں اس نے ہم دونوں کے فوٹو لئے، بعد کو انھوں نے مجھے ایک ایسی تصویر دی جس میں میں ایک ہوائی جہاز کے اندر بیٹھا ہوا تھا، میں نے کہا کہ میں تو آج تک ہوائی جہاز میں بیٹھا ہی نہیں، پھر اس قسم کی تصویر کیسے بن گئی، انھوں نے بتایا کہ یہ تصویر فوٹوگرافر نے تیار کی ہے، اس نے یہ کیا کہ آپ کی ایک تصویر لے کر اس کو ہوائی جہاز کی تصویر کے ساتھ چپکا دیا، پھر وہ دوبارہ اس کی تصویر لے لی۔

اس قسم کی تصویر کشی اس زمانہ میں اتنی عام ہو چکی ہے کہ اب ہر آدمی اس معاملہ کو اچھی طرح جانتا ہے۔

یکم اکتوبر ۹۸ کو دوپہر کا کھانا جناب ایس ایم حسن صاحب کے مکان پر تھا، اس سلسلہ میں یہاں ایک درجن سے زیادہ آدمی اکٹھا ہو گئے۔ ان سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی، جناب ایس ایم حسن صاحب کو اپنی سروس کے تحت بار بار جنگل میں جانا ہوتا ہے وہاں آدی واسی لوگ رہتے ہیں، ایک بار انھوں نے کچھ آدمی واسیوں سے پوچھا کہ سرکار اگر آپ کو مدد دینا چاہے تو آپ اس سے کس قسم کی مدد چاہیں گے۔ ایک بوڑھے آدمی واسی نے دیر تک سوچا اور کہا کہ نمک۔ پھر انھوں نے دوبارہ سوال کیا کہ اور کیا چیز آپ چاہیں گے۔ آدمی واسی نے دوبارہ سوچ کر کہا کہ مٹی کا تیل۔

میں نے سوچا کہ آدمی واسی کے فہم کی آخری حد یہی تھی، اگر وہ زیادہ باشعور ہوتا تو شاید وہ کہتا کہ سرکار ہمارے بچوں کے لئے تعلیم کا انتظام کرے۔

یکم اکتوبر کو ظہر کی نماز ٹینٹی نگر کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد یہاں ایک اجتماع ہوا جس میں زیادہ تر رسالہ کے قارئین تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج پوراملک الرسالہ کی پالیسی کو اختیار کئے ہوئے ہے۔ کوئی اعلان کے ساتھ اور کوئی بلا اعلان۔

۱۹۴۷ کے بعد تمام بے ریش و بارلیش قائدین صرف ایک ہی بات جانتے تھے کہ انڈیا

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page