Al-Risala · March 1999 · page 28

بھوپال کا سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۲۸

مسلمانوں کے لئے ایک پرابلم کنٹری ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی پوری سیاست، صحافت و قیادت احتجاج کے رخ پر چل پڑی۔ فرقہ پرست طاقتوں سے لڑنا اور شکایات و مطالبات کا طوفان کھڑا کرنا اسی کا نام مسلم سیاست تھا ۱۹۴۳ سے الجمعیۃ ویکلی کے ذریعہ اور ۱۹۷۶ سے الرسالہ منْتھلی کے ذریعہ میں نے یہ پیغام دینا شروع کیا کہ مسائل زندگی کا حصہ ہیں۔ انڈیا ہی نہیں بلکہ پورا ورلڈ پرابلم ورلڈ ہے۔ ہم کو پرابلم کے در میان جینا سیکھنا چاہئے۔ اس کے سوا زندگی کا کوئی اور راستہ نہیں۔

لمبی مدت تک یہ آواز لوگوں کے لئے اجنبی بنی رہی مگر دھیرے دھیرے حالات بدلے اور آج انڈیا کے تمام مسلمان اس الرسالہ پالیسی پر قائم ہیں۔ اس معاملہ کو مختلف مثالوں سے واضح کیا۔ جناب محمد عمران صاحب اور جناب بلال الدین صاحب اور مولوی شمس الدین صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ دنیا میں زندگی گزارنے کے تین درجے ہیں ضرورت، راحت اور عیش۔ necessity, comfort, luxury پہلا درجہ یہ ہے کہ آدمی ناگزیر ضرورتوں کے دائرے میں زندگی گزارے، دوسرا درجہ یہ ہے کہ وہ راحت کے سامان بھی استعمال کرے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ وہ عیش و تکلف کی زندگی گزارے۔ مثلاً تخت پر سونا آدمی کی ضرورت ہے۔ فوم کا گدا استعمال کرنا راحت ہے اور ائز کنڈیشنڈ کمرہ میں رہنا عیش ہے۔ میں نے کہا کہ میں حرام و حلال کی زبان عام طور پر استعمال نہیں کرتا۔ میں سادہ زبان میں صرف یہ کہوں گا کہ انسان کو چاہئے کہ وہ ضرورت پر قناعت کرے۔ اگر ایسا کرنا مشکل ہو تو رعایت کے درجہ میں راحت والی چیزوں کو بھی استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔ مگر عیش و عشرت والی زندگی میں تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ محمد عمران صاحب بھوپال کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں ان کو سائنس کے موضوع سے دلچسپی ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے چند باتیں کہیں۔ میں نے کہا کہ سائنسی انداز میں سوچنا بہت اچھی بات ہے مگر سائنسی سوچ کو مفید

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page