بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۲۹
بنانے کے لئے ایک حقیقت کا لحاظ کرنا بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ سائنس صرف جزئی علم دیتی ہے اس لئے سائنس کے ذریعہ اسلام کا کلی علم حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
میں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ یہ کوشش کرتے ہیں کہ تمام سائنسی علوم کو قرآن سے نکالیں۔ یہ ایک طفلانہ بات ہے قرآن معرفت حق کی کتاب ہے نہ کہ سائنس کی کتاب۔ ہمیں صرف یہ کہنے پر اکتفا کرنا چاہئے کہ قرآن چودہ سو سال پہلے اترا جب کہ جدید سائنسی معلومات دریافت نہیں ہوئی تھیں اس کے باوجود قرآن کی کوئی بات سائنسی طور پر غلط ثابت نہیں ہوئی۔ قرآن نے اپنا پیغام دیتے ہوئے مختلف علوم کے حوالے دیئے ہیں مگر قرآن کا کوئی بیان جدید سائنس کی کسی دریافت سے نہیں ٹکراتا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن علیم و خبیر ہستی کی کتاب ہے۔ گویا اصل بات یہ نہیں ہے کہ قرآن میں سائنس کے تمام مضامین موجود ہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ قرآن میں اور جدید سائنس میں کوئی ٹکراؤ نہیں اور ہمارے مقصد کے لئے یہی بات کافی ہے۔
یکم اکتوبر کی شام کو ملار موسی سنکرتی بھون کے حال میں گاندھی سمیتی کے تحت پروگرام ہوا جس میں مختلف لوگ شریک تھے۔ اس کا موضوع تھا ملٹی کلچر اینڈ گاندھی۔ میں نے اس موضوع پر تقریباً آدھا گھنٹہ تقریر کی۔ میری تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ملٹی کلچر اور یونی کلچر کا معاملہ ہمارے انتخاب کا معاملہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یونی کلچر صرف ایک خیالی نظریہ ہے، اس دنیا میں وہ قابل عمل ہی نہیں۔ کلچر اپنی عین نوعیت ہی کے لحاظ سے ملٹی کلچر ہے اور ہمارے لئے کامیابی کا راز یہ ہے کہ ہم اس کو کسی بحث کے بغیر قبول کرلیں۔
مسٹر کلڈ ہیپ نیر نے اپنی تقریر میں مہاتما گاندھی کے دو قصے بیان کئے جو یہاں قابل ذکر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگست 1947ء کے ہنگامہ کے بعد پاکستان سے آنے والا ایک ہندو مہاتما گاندھی سے ملا اس نے کہا کہ میرے بارہ سال کے لڑکے کو مسلمانوں نے مار ڈالا اب مجھ کو آپ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues