Al-Risala · January 1999 · page 15

غلو نہیں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۱۵

غلو نہیں

قرآن (النساء ۱۷۱) میں اہل کتاب کے تذکرہ کے ذیل میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگ اپنے دین میں غلو نہ کرو (لا تغلو ا فی دینکم) یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے کہ تم لوگ دین میں غلو سے بچو کیوں کہ پچھلی امتیں دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں۔ (ایاکم والغلو فی الدين فانما هلك من كان قبلكم بالغلو في الدين ) مسند احمد بن حنبل ۱/ ۲۱۵ غلو کا مطلب ہے زیادہ ہونا ، حد سے تجاوز کرنا۔ حدیث کے مطابق ، ہر قسم کے معاملات میں توسط اور اعتدال کی راہ ہی درست راہ ہے۔ اعتدال یا میانہ روی کا طریقہ ہمیشہ کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اور غلو کا طریقہ ہمیشہ نقصان اور ناکامی کی طرف۔ یہ خود فطرت کا قانون ہے۔ اسی لئے عالمی سطح پر اس کا اعتراف کیا گیا ہے۔ انگریزی کا ایک مقولہ ہے کہ زیادتی ہر چیز میں بری ہے :

an excess of everything is bad

غلو کا تعلق ہر معاملہ سے ہے۔ مثلاً عقیدہ میں پختہ ہونا بہت اچھی بات ہے مگر عقیدہ کے کھلے اظہار میں اگر جان کا خطرہ ہو تو ایسی حالت میں اپنی جان بچانے کے لئے اخفا کا حکم دیا گیا۔ نماز اور روزہ ، ذکر اور تلاوت قرآن، سب مطلوب اعمال ہیں مگر ان کی غیر معتدل کثرت مطلوب نہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بلاشبہ ضروری اعمال میں سے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص اس کو تشدد کی حد تک لے جائے تو وہ درست نہ ہوگا۔ یہی معاملہ اخلاقی اصولوں کا بھی ہے۔ مثلاً خود اعتمادی ایک اعلیٰ اخلاقی صفت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page