Al-Risala · March 1999 · page 30

بھوپال کا سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۳۰

کیا مشورہ دیتے ہیں۔ مہاتما گاندھی نے کہا کہ دیکھو یہ بہت سے مسلمان یتیم بچے ہیں تم ان میں سے بارہ سال کی عمر کے کسی بچہ کو لے لو اور مسلمان کی طرح اس کی پرورش کرو۔ اس آدمی نے ایساہی کیا۔

دوسرا واقعہ انھوں نے یہ بتایا کہ دہلی کے برلا مندر میں ہر روز صبح کو مہاتما گاندھی کی پرارتھنا ہوتی تھی جس میں ہر مذہب کی مقدس کتاب کا کچھ حصہ پڑھا جاتا تھا۔ ایک دن مہاتما گاندھی نے مجمع سے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سے کسی کو اس پروگرام پر اعتراض تو نہیں۔ ایک ہندو نے کہا کہ مجھے اعتراض ہے میں پاکستان سے بھاگ کر آیا ہوں اور میں نے دیکھا کہ وہاں قرآن کے ماننے والوں نے کتنا ظلم کیا ہے۔ گاندھی جی نے کوئی جواب نہیں دیا صرف اس دن کی پرارتھنا بند کردی۔ اگلے دن دوبارہ انھوں نے یہی سوال کیا اب بھی وہ ہندو وہاں موجود تھا اس نے کہا کہ اب مجھ کو کوئی اعتراض نہیں۔ چنانچہ اس کے بعد قرآن سمیت تمام کتابیں پڑھی گئیں ــــــ یہ تھا خاموشی کی طاقت کا کرشمہ۔

یکم اکتوبر کی شام کو ایک ہندو مقرر نے بتایا کہ سوامی وویکانند سے ایک شخص نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں بھی وویکانند بن جاؤں۔ جواب میں سوامی وویکانند نے کہا کہ آپ ایک منٹ میں سوامی وویکانند بن سکتے ہیں مگر سوامی وویکانند ہونے کے لئے ایک صدی چاہئے : محمد ذاکر حسین کے صاحبزادہ محمد زبیر کی عمر ابھی صرف آٹھ سال ہے اور انھوں نے آدھا قرآن حفظ کر لیا ہے۔ میں نے صاحبزادہ سے کہا کہ آپ قرآن کا کچھ حصہ پڑھ کر سنائیں انھوں نے سبحان الذی اسریٰ بعدہ سے پڑھنا شروع کر دیا۔ ان کے پڑھنے کا انداز ایسا تھا جیسے کوئی پختہ قاری پڑھ رہا ہو۔ ان کو سن کر میں نے کہا کہ یہ بھی قرآن کا ایک زندہ معجزہ ہے کہ 8 سال کا ایک بچہ 15 پارہ حفظ کرلے اور اس کو ایک پختہ قاری کی طرح پڑھ کر سنائے معلوم ہوا کہ انھوں نے صرف ڈیڑھ سال میں یہ حفظ کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page