بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۳۱
مذکورہ بچہ کے استاد حافظ عبد الرقیب صاحب ہیں وہ اپنے بزنس کے سلسلہ میں ہر روز بھوپال سے بیر کھیڑی جاتے ہیں۔ ۳۲ کلومیٹر کا یہ فاصلہ بس کے ذریعہ طے ہوتا ہے۔ بس کے مالک غیر مسلم ہیں مگر جب انھوں نے جانا کہ یہ بچہ اپنے استاد کے ساتھ حفظ قرآن کے لئے روزانہ سفر کرتا ہے تو انھوں نے بچہ کا کرایہ لینے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ یہ بچہ ہر روز ۶۳ کلومیٹر کا یہ سفر بس کے ذریعہ طے کرتا ہے مگر بس کے مالکان اس کا کرایہ نہیں لیتے۔ یہ قصہ سن کر میں نے کہا کہ یہ بھی قرآن کی ایک کرامت ہے۔
یکم اکتوبر کی شام کا کھانا محمد ذاکر صاحب کے مکان پر طے تھا مگر راستہ کی بھیڑ کی وجہ سے وہ کھانا لے کر ہوٹل میں آگئے۔ چنانچہ تقریباً ۲۰ آدمیوں کے ساتھ ہوٹل میں کھانا کھلایا گیا۔ میں نے محمد ذاکر صاحب سے کہا کہ یہ تو آپ نے میرے اوپر بہت بڑا ظلم کیا۔ انھوں نے کہا کہ دسہرہ کی وجہ سے آج راستہ میں بہت بھیڑ تھی اور ہوٹل سے میرے گھر تک جانے میں آپ کو زحمت ہوتی۔ میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ وہاں سے یہاں آسکتے تھے تو میں بھی یہاں سے وہاں تک پہنچ سکتا تھا۔ مولانا محمد اختر قاسمی نے کہا کہ عمل کارد عمل تو ایک فطری چیز ہے پھر آپ کیوں کہتے ہیں کہ جب دوسروں کی طرف سے اشتعال انگیزی کی جائے تو مسلمانوں کو مشتعل نہیں ہونا چاہئے۔۔ میں نے کہا کہ رد عمل بلاشبہ ایک فطری چیز ہے مگر یہ فطرت برائے اظہار نہیں ہے بلکہ برائے امتحان ہے۔ یعنی انسان کے اندر یہ مزاج اس لئے نہیں رکھا گیا ہے کہ لوگ ہر خلاف مزاج بات پر لڑ جائیں اور انتقامی کارروائیاں کریں بلکہ وہ اس لئے ہے کہ لوگ اس اعلیٰ انسانی صفت کی تربیت حاصل کریں، جس کو ضبط و تحمل کہا جاتا ہے غصہ دلانے پر غصہ ہو جانا ایک حیوانی صفت ہے اور غصہ دلانے کے باوجود غصہ نہ ہونا ایک انسانی صفت۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ دنیا میں اس اعلیٰ انسانی صفت کا ثبوت دے تا کہ ان کا شمار اللہ کے یہاں صالحین میں کیا جائے۔ مولانا شمس الدین ندوی نے کہا کہ ایک حدیث یہ بتاتی ہے کہ " من استغضب ولم يغضب فهو حمار " (جس آدمی کو غصہ دلایا جائے مگر وہ غصہ نہ ہو تو وہ گدھا ہے) انھوں نے کہا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues