بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۳۲
کہ اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ غصہ دلانے پر غصہ ہونا کوئی بری بات نہیں بلکہ وہ اچھی بات ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات بذات خود صحیح ہے، کیوں کہ غصہ عام طور پر الفاظ پر آتا ہے۔ آپ کسی کو کوئی سخت لفظ بول دیں تو وہ غضبناک ہو جائیگا، اس قسم کا غصہ صرف انسان کو آسکتا ہے کیوں کہ یہ صرف انسان ہی ہے جو الفاظ کی زبان جانتا ہے۔ گدھے کے سامنے آپ سب وشتم کے تمام الفاظ دہرادیں تب بھی اسے غصہ نہیں آئے گا۔ کیوں کہ اس نے آپ کے الفاظ کا کوئی مطلب سمجھا ہی نہیں۔
میں نے کہا کہ غصہ ہونا بلا شبہ کسی کے حیوان ناطق ہونے کا ثبوت ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسروں کو اپنے غصہ کا شکار بنانا بھی کوئی انسانی فعل ہے۔ اس قول کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب تم کو غصہ دلایا جائے تو تم کو غصہ ضرور آئے گا۔ کیوں کہ تم انسان ہو مگر انسان ہونے ہی کا دوسرا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہمارے اندر تحمل کی صفت ہو۔ تم غصہ کے با وجود اس آیت کا مصداق بنو کہ "واذا ما غضبوا هم يغفرون"
غصہ آنا ایک چیز ہے اور غصہ کو ظاہر کرنا دوسری چیز۔ غصہ آنا بلا شبہ ایک فطری صفت ہے مگر غصہ کو ظاہر کرنا بلا شبہ ایک غیر انسانی فعل ہے۔ غصہ آنا اگر اس بات کی پہچان ہے کہ آپ ایک انسان ہیں، تو غصہ کو ظاہر کرنا اور فریق ثانی کو اپنے غصہ کا نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ خدا کے امتحان میں ناکام ہو گئے۔
یہ سن کر ایک صاحب نے کہا کہ غصہ کوروکنا تو بہت مشکل کام ہے۔ میں نے کہا کہ یہی مشکل تو جنت کی قیمت ہے۔ اور کسی اعلیٰ چیز کی قیمت ہمیشہ مشکل ہی ہوتی ہے۔ اگر غصہ کے وقت آدمی یہ سوچے کہ یہ تو میرے لئے جنت کی قیمت ادا کرنے کا وقت ہے تو حضرت عمر فاروق کے الفاظ میں غصہ کو پینا اس کے لئے سب سے زیادہ میٹھا گھونٹ بن جائے۔
۲ اکتوبر کی صبح کو جناب الطاف حسین صدیقی کے مکان پر صبح کے ناشتہ کا پروگرام تھا،
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues