بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۳۳
یہاں اور کئی لوگ موجود تھے، مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ بھائی الطاف صاحب معاشیات سے خصوصی دل چسپی رکھتے ہیں۔ انھوں نے ہندوستان کی اقتصادیات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ضرورت فارن انوسٹمنٹ ہے۔ ہماری ضرورت فارن لون نہیں۔ ہندوستان میں آزادی کے بعد بہت بڑی مقدار میں بیرونی قرضے لئے گئے مگر ان قرضوں کا کوئی مثبت اقتصادی فائدہ اس ملک کو نہ ملا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرض سے پہلے یہ مسئلہ ہے کہ قرض کی رقم کو صحیح طور پر استعمال کرنے کے لئے کیا ہمارے پاس صلاحیت موجود ہے۔ چونکہ یہ صلاحیت موجود نہیں تھی اس لئے ان قرضوں کا حال وہی ہوا کہ کسی کو دودھ دیا جائے مگر اس کو لینے کے لئے اس کے پاس صرف چھلنی موجود ہو، ایسا آدمی دودھ کے عطیہ کے باوجود دودھ سے محروم رہے گا۔ فارن انوسٹمنٹ میں یہ خطرہ نہیں تھا وہ لوگ اپنے مالیاتی انوسٹمنٹ کے ساتھ اپنی صلاحیت بھی لے آتے اور پھر ان کا اقتصادی فائدہ بھی ضرور ملک کو ملتا۔ آزادی کے چالیس سال بعد لبرلائزیشن کے تحت فارن انوسٹمنٹ کا دروازہ کھولا گیا مگر عملا وہ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ ہمارے ملک کی دو بنیادی خرابیاں تھیں جو نہرو کی پالیسیوں کی دین ہیں یہ ہے قانون قاعدوں کی بھر مار اور کرپشن۔ اس دستار کاوٹ کی بنا پر بیرونی کمپنیاں اس طرح ہندوستان میں نہ آسکیں جس طرح وہ دوسرے ملکوں میں جاکر اپنا کام کر رہی ہیں۔
بیرونی ملکوں میں ہندوستان کے جو لاکھوں لوگ ہیں جن کو نان ریزیڈینٹ انڈین کہا جاتا ہے وہ اس معاملہ میں بہت بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں جناب محمد مبین انجینئر نے بتایا کہ ان ہندوستانیوں کے پاس تین سو پچاس بلین ڈالر کا ریزرو ہے۔ اگر یہ رقم انڈیا میں آجائے تو ہمارا سارا اقتصادی مسئلہ حل ہو جائے۔
میں نے اپنے بیرونی سفروں کے درمیان بہت سے ایسے ہندوستانیوں سے ملاقات کی ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ ہندوستان میں اپنا سرمایہ کیوں نہیں لگاتے۔ تقریباً ہر ایک نے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues