Al-Risala · March 1999 · page 34

بھوپال کا سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۳۴

کہا کہ ہم ایسا کرنا چاہتے ہیں مگر ہندوستان کا کرپشن اور بڑھتی ہوئی بیوروکریسی کی بنا پر ہماری ہمت نہیں پڑتی۔

موجودہ گورمنٹ نے بیرونی ملک میں آباد ہندوستانیوں سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان میں اپنا پیسہ لگائیں۔ اس سلسلہ میں اسٹیٹ بنک آف انڈیا نے خصوصی رعایتوں کا اعلان کیا۔ اس کے بعد غیر مقیم ہندوستانیوں نے چار بلین ڈالر سے زیادہ اسٹیٹ بنک آف انڈیا کو دئے۔ اس سلسلہ میں جناب محمد مبین شاغل (۳۸ سال) نے یہ پر مسرت بات بتائی کہ اس رقم کا 65% حصہ خلیجی ملکوں میں مقیم ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے آیا ہے۔ اس کی تفصیلی رپورٹ ٹائمس آف انڈیا میں چھپی ہے۔ یہ بلاشبہ اس الزام کی ایک تردید ہے کہ مسلمان اس ملک کے وفادار نہیں کیوں کہ انسان کے لئے سب سے مشکل چیز ”زر“ کو دینا ہے جیسا کہ فارسی کے ایک مقولہ میں کہا گیا ہے کہ ”زرمی طلبی سخن دریں است“ اس نازک اقتصادی موقع پر جب مسلمانوں نے دوسرے فرقوں سے بڑھ کر ملک کے لئے اپنی مالی امداد پیش کردی تو یہ گویا اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ وہ اس ملک کے سچے دیش بھکت ہیں بلکہ شاید دوسروں سے زیادہ۔

مولانا اقبال احمد سہیل (وفات ) نے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے اپنے ایک شعر میں کہا تھا کہ جان جائے پر نہ جائے حرمت شان وطن میں اس میں معمولی لفظی فرق کرتے ہوئے یہ کہوں گا کہ مال جائے پر نہ جائے حرمت شان وطن ۲ اکتوبر کو 11 بجے ہم لوگ اس مقام پر پہنچے جہاں ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے ایک پلاٹ لیا ہے اور وہاں وہ اپنا مکان بنانا چاہتے ہیں۔ مجھ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ میں اس تعمیر ہونے والے مکان کا سنگ بنیاد رکھوں جو انشا اللہ نہ صرف ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کے لئے ایک رہائش گاہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page