بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۳۵
ہوگا بلکہ وہ اسی کے ساتھ الرسالہ مشن کا ایک خداداد مرکز بھی بنے گا۔ انشاء اللہ العزیز۔ یہ سنگ بنیاد جناب ذاکر الرحمن عرف مہتاب میاں کی موجودگی میں رکھا گیا۔
یہ پلاٹ بھائی الطاف صاحب (پروجیکٹ کنسلٹینٹ) کی رہائش گاہ کے قریب ہے اور انھیں کے مشورہ اور کوششوں کے ذریعہ حاصل ہوا ہے۔ بھائی الطاف صاحب نے کہا کہ ایک سال پہلے وہ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کے ساتھ یہاں آئے۔ بھائی الطاف صاحب (پیدائش ۱۹۳۴) تقریباً ۳ سال سے ریٹناڈی جنریشن کی وجہ سے دونوں آنکھوں کی روشنی سے محروم ہو گئے ہیں۔ چنانچہ وہ کچھ بھی دیکھ نہیں سکتے۔ جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پلاٹ کو دیکھنے کے لئے آئے تو انھوں نے ایک بڑی عجیب بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ مجھے بصارت حاصل نہیں مگر میری بصیرت یہ کہتی ہے کہ یہ مقام انشااللہ انتہائی پر رونق اور خیر و برکت والا ہے۔ یہ سن کر مجھے ایک شاعر کا شعر یاد آیا۔ وہ دونوں آنکھوں سے نابینا تھے۔ انھوں نے ایک نعتیہ نظم لکھی اس نعتیہ نظم کا ایک شعر یہ تھا:
بصارت کھو گئی تو کیا بصیرت تو سلامت ہے مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ ۲ اکتوبر کی دوپہر کو بھوپال کا ایک رفاہی ادارہ دیکھا۔ اس کا نام شھم وکلا نگ سیوا سمیتی ہے۔ یہ ادارہ ۱۹۸۰ میں جناب سردار خانصاحب کی صدارت میں قائم ہوا جس کے سرپرست جناب الطاف صدیقی صاحب ہیں۔ میں نے ان بچوں کو دیکھا جن کی تعداد ۶۳ ہے ان میں ہندو اور مسلمان دونوں بچے شامل ہیں۔ میں نے کئی بچوں سے بات کی دو بچوں سے ہونے والی بات کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
سنتوش چورسیہ (عمر ۱۴ سال) ان سے میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیا کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پڑھتے ہیں۔ میں نے پھر پوچھا کہ آپ کیا سوچتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ پڑھ لکھ کر میں اپنے پیروں پر کھڑا ہوں گا۔ ایک اور بچہ جس نے اپنا نام شنکر شرما (عمر ۱۲ سال) بتایا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues