Al-Risala · March 1999 · page 36

بھوپال کا سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۳۶

وہ بھی اپنے دونوں پیروں سے معذور تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ پڑھنے کے بعد کیا کریں گے ۔ اس نے جواب دیا میں پڑھ کر اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔ یہ بات وہ بچے کہہ رہے تھے جو اپنے دونوں پیروں سے پوری طرح معذور تھے اور جسمانی طور پر کھڑے نہیں ہو سکتے تھے۔ میں نے سوچا کہ علم میں کیسی عجیب طاقت ہے۔ علم آدمی کو اس حد تک باشعور بناتا ہے کہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر اتنا طاقتور ہو جائے کہ اس کی جسمانی کمزوری ترقی کی راہ میں حائل نہ ہو سکے۔

اس ادارہ میں اس وقت ۶۳ معذور بچے ہیں ان میں مسلم بھی ہیں اور غیر مسلم بھی۔ ان کو دیکھ کر میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ ان کے مقابلہ میں مجھے اپنا وجود حقیر نظر آنے لگا۔ میں نے سوچا کہ میرا معاملہ تو ایک مشتبہ معاملہ ہے مگر یہ بچے یقینی طور پر خدا کی ایک مرضی کو پورا کر رہے ہیں۔ وہ دنیا میں خدا کی طرف سے لوگوں کے لئے نشان راہ (sign post) ہیں۔ وہ زندہ زبان میں لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ اے لوگو، اگر خدا نے تم کو ہاتھ اور پاؤں آنکھ اور دماغ سے معذور نہیں بنایا تو اس پر ناز نہ کرو بلکہ خدا کا شکر ادا کرو کیونکہ خدا اگر چاہتا تو وہ تم کو بھی ویسا ہی بنا دیتا جیسا کہ تم ہم کو دیکھ رہے ہو۔ اس ادارہ کا ڈاک کا پتہ یہ ہے۔ Subham Viklang Awam Samaj Sewa Samiti Near Kausar Masjid, Cheklad Road. Jehangirabad, Bhopal - 462008 Tel-(0755)511957-770482 ۲ اکتوبر ۹۸ کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز بھوپال کی صوفیہ مسجد میں پڑھی یہ مسجد مجھے بہت پسند ہے۔ میں نے کئی بار یہاں نماز پڑھی ہے۔ مسجد اس طرح بنائی گئی ہے جیسے کہ وہ پارک کے اندر ہو۔ قدرتی مناظر کے درمیان عبادت گاہ کا تصور میرے جیسے آدمی کے لئے بہت

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page