بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۳۷
پرکشش ثابت ہوتا ہے۔
آج دوپہر کے کھانے کا انتظام اسی مسجد میں کیا گیا تھا۔ تقریباً ۱۰۰ آدمی کھانے پر موجود تھے۔ ان میں مدھیہ پردیش کی مشہور شخصیت مسٹر کنک تیواری بھی تھے۔ مسٹر کنک تیواری اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اسی کے ساتھ وہ گاندھی وادی بھی ہیں۔ انھوں نے گاندھی جی کے کئی قصے سنائے۔ انھوں نے بتایا کہ گاندھی جی مدھیہ پردیش میں دس بار اور بھوپাল میں دو بار آئے تھے۔ ان کا پہلا سفر غالباً ۱۹۲۰ میں مولانا محمد علی جوہر کے ساتھ ہوا تھا جب کہ وہ چھندواڑا گئے تھے۔ بھوپাল کے اس سفر میں بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں سے ملنے اور ان سے گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں میری اول دن سے ایک ہی رائے ہے۔ عام طور پر مسلمانوں کے رہنما خواہ بے ریش ہوں یا بارلیش سب ایک ہی بات کہتے ہیں وہ یہ کہ ہندوستانی مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہاں کے اکثریتی فرقہ کا تعصب ہے۔ میں اس کو بالکل بے معنی سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک مسلمانوں کا اصل مسئلہ ان کی بے شعوری ہے۔ یہ مسئلہ انڈیا میں بھی اتنا ہی ہے جتنا کہ پاکستان میں۔
صوفیہ مسجد میں کچھ مسلمانوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ نہ کہا کہ آزادی کے بعد ہندستان اور پاکستان دونوں یکساں طور پر مسائل کا شکار بنے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۴۷ کے بعد دونوں ملکوں میں جو رہنما اٹھے انھوں نے صحیح نقطہ آغاز سے اپنا کام شروع نہیں کیا۔ پاکستان میں وہاں کے مسلم رہنماؤں نے یہ سمجھا کہ یہاں کرنے کا پہلا کام اسلامائزیشن آف اسٹیٹ ہے۔ حالانکہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ وہاں مسلمانوں کے مختلف طبقات میں وہ شعور پیدا کیا جائے جو انھیں مل کر رہنا سکھائے اور باہمی ٹکراؤ کا خاتمہ کرے ۔ اس غلط آغاز کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامائزیشن کے نام پر کوششوں کا طوفان کھڑا کر دیا گیا مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جو پاکستان ایک قوم کے نام پر بنا تھا وہ کئی قوموں اور فرقوں میں بٹ کر آپس میں تباہ کن لڑائی میں مشغول ہو گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues