Al-Risala · March 1999 · page 38

بھوپال کا سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۳۸

ہندستان کے مسلم رہنماؤں نے یہ سمجھا کہ یہاں کی مفروضہ مسلم دشمن طاقتوں کے خلاف مفروضہ لڑائی لڑتے رہیں۔ اس نام نہاد لڑائی کا بے نتیجہ ہو جانا یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ معاملہ کے صحیح تشخیص پر قائم نہ تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلم نقطۂ نظر سے ہندستان کا اصل مسئلہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات کو نارمل بنانا تھا۔ اسی نار ملائزیشن پر مسلمانوں کی تمام ترقیوں کا انحصار تھا، دینی بھی اور دنیوی بھی۔

صوفیہ مسجد میں کچھ مسلمانوں نے فخر کے ساتھ یہ کہا کہ بھوپال میں اور (اسی طرح سارے ہند ستان میں ) مسجدوں میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے اور نمازیوں کی تعداد بھی ہر جگہ بہت بڑھ رہی ہے۔

میں نے کہا کہ میں چیزوں کو ان کے ظاہر کے اعتبار سے نہیں دیکھتا ہوں بلکہ ان کی حقیقت کے اعتبار سے دیکھتا ہوں۔ اس لئے اس مذہب میں میرے لئے کوئی زیادہ خوشی کی بات نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ نمازیاد مسجد کو جانچنے کا اسلامی معیار کیا ہے۔ قرآن وحدیث کے مطابق، وہ تقویٰ ہے۔ مسجدوں میں نمازیوں کا اضافہ اگر مسلمانوں میں اسلامی کیریکٹر پیدا کر رہا ہو تو بلا شبہ یہ خوشی کی بات ہے۔ مگر بد قسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ میرا تجربہ ہے اور آپ بھی یقیناً جانتے ہوں گے کہ نماز کی کثرت کے باوجود مسلمانوں سے وعدہ خلافی ختم نہیں ہوئی۔ پیسے کے لین دین میں وہ مضبوط نہیں بنے۔ مسلمانوں میں یہ مزاج نہیں آیا کہ کسی کے بارے میں کوئی الٹی بات سنے تو تحقیق کے بغیر اس کو نہ مانے۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ خشامُنکر سے بچنے والے نہیں بنے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے میں یہاں صرف ایک حدیث پیش کرتا ہوں۔ حدیث میں آیا ہے کہ کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ وہ جو سنے اس کو دہرانے لگے (کفی بالمرء كذباً ان يحدث بكل ما سمع )

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page