Al-Risala · March 1999 · page 39

بھوپال کا سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۳۹

میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ موجودہ مسلم سماج میں بہت کم افراد ہوں گے جو اس معیار پر پورے اتریں۔ میں ذاتی طور پر اس معاملہ کا ثبوت ہوں۔ میرے معاملہ میں بہت سی باتیں کچھ لوگوں نے بے بنیاد طور پر کہیں ۔ مثلاً یہ کہ میں بی جے پی کا ایجنٹ ہوں، مجھ کو مسلم دشمن طاقتوں سے پیسہ ملتا ہے ، میں یہ کہتا ہوں کہ مسلمان بابری مسجد ہندوؤں کو دے دیں، میرے ماہنامہ رسالہ کابل ہند وا داد کرتے ہیں، مجھ کو اسلام کے دشمنوں نے ڈپیوٹ کیا ہے کہ میں مسلمانوں کو اندر سے کمزور کروں وغیرہ وغیرہ۔

میرے خلاف اس قسم کی باتیں اردو اخباروں اور رسالوں میں چھپتی ہیں۔ سارے ہندوستان کے مسلمان ان باتوں کو دہراتے ہیں۔ مگر آج تک کسی بھی شخص نے مجھ سے ٹیلی فون یا خط یا ملاقات کے ذریعہ یہ نہیں پوچھا کہ آپ کے بارے میں فلاں بات ہم نے سنی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ پہلے آپ سے تحقیق کر لوں اس کے بعد اس پر لکھوں یا بولوں۔

اس طرح کے کثیر تجربات کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں مسجدوں میں نمازیوں کی کثرت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے شاید کوئی اسلامی ظاہرہ (Islamic phenomenon) نہیں بلکہ وہ ایک قسم کی فراریت ہے۔ مسلمان موجودہ زمانہ میں غیر مسلموں کے براہ راست مقابلہ سے ہر میدان میں اپنے آپ کو دفاعی پوزیشن میں پاتے ہیں۔ یہ مسجدیں مسلمانوں کو ایک طرف حفاظت خانہ (safe haven) فراہم کرتی ہیں اور دوسری طرف یہاں کے علیحدہ ماحول میں ان کو یہ موقع ملتا ہے کہ اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف اس قسم کی بد دعائیں کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکال سکیں "اللهم اهلكهم ، اللهم دمر ديارهم ، اللهم خذهم اخذ عزيز مقتدر “ ایک صاحب نے کہا کہ اس قسم کی بد دعائیں تو ماثور ہیں اور روایات سے ثابت ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں اس لئے کہ بعض بد دعائیں جو روایات میں آئی ہیں وہ صرف وقتی تھیں اور وہ بھی صرف اس وقت کی گئیں جب کہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page