بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۴۰
فریق ثانی پر اتمام حجت آخری حد تک کیا جا چکا تھا۔ اس کے باوجود اس نے ظالمانہ جارجیت کا طریقہ اختیار کیا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان ’’اہلِ کفر‘‘ کے خلاف ہر روز بد دعائیں کرتے ہیں ان میں یہ دونوں شرطیں نہیں پائی جاتیں۔ اس لئے یہ بد دعائیں یقینی طور پر سنت کے مطابق نہیں ہیں، بلکہ وہ ان احادیث کے مصداق ہیں جن میں کہا گیا کہ تم دعائیں مانگو گے اور تمہاری دعائیں قبول نہ ہوں گی ( ولا يستجاب لكم)
بھوپال میں موتی مسجد (سے متصل) کے پاس مکتبہ الرسالہ قائم کیا گیا ہے۔ جناب انور جمال صاحب نے اپنے مکان کا ایک حصہ جو سڑک کی طرف کھلتا ہے اس کے لئے خاص کیا ہے اور بطور عطیہ مکتبہ الرسالہ کو دیا ہے۔ ۲ اکتوبر کو میں نے اس مکتبہ کا افتتاح کیا۔ ۲ اکتوبر کی شام کو اچاریہ نریند رڈیو لائبریری کے ہال میں ایک پروگرام ہوا جس میں ہندو اور مسلمان دونوں فرقوں کے لوگ شریک ہوئے۔ سب تعلیم یافتہ لوگ تھے اس کا موضوع تھا ’’اسلام اور آنکوراد‘‘ میں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اسلام میں آہنک واد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ بحیثیت فرد ایک مسلمان کو صبر اور اعراض کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاں تک جنگ کا تعلق ہے تو اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے، اقدامی جنگ یا نجومی لڑائی اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔ دوسری بات یہ کہ جنگ اسٹیٹ کا معاملہ ہے نہ کہ غیر حکومتی افراد یا گروہ کا معاملہ۔ موجودہ زمانہ میں مختلف ملکوں میں مسلمانوں کے غیر حکومتی گروہوں نے وہاں کی حکومت کے خلاف جو لڑائیاں چھیڑ رکھی ہیں وہ بلاشبہ اسلام میں ناجائز ہیں۔ ایک مسلمان ذاتی فیصلہ کے تحت روزہ نماز کر سکتا ہے مگر غیر حکومتی افراد خود اپنے ارادہ یا فیصلہ کے تحت کسی حکومت کے خلاف متشددانہ جنگ نہیں چھیڑ سکتے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ یقینی طور پر سخت گنہ گار ہیں۔ جناب کیلاش نارائن سارنگ کے ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ قرآن میں قتال کی جو آیتیں ہیں وہ پیغمبر کے ہم عصر حملہ آوروں سے لڑنے کے لئے ہیں۔ مثلاً قاتل
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues