Al-Risala · March 1999 · page 41

بھوپال کا سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۴۱

المشرکین کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا میں جہاں کوئی مشرک ہو اس سے لڑو، بلکہ اس سے مراد مکہ کہ وہ ہم زمانہ مشرکین ہیں جنھوں نے یک طرفہ طور پر پیغمبر کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی تھی اور کسی طرح اس جنگ کو ختم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے تھے۔ ان جارحین کے خلاف دفاعی طور پر جنگ کرنے کا حکم دیا گیا۔ میں نے کہا کہ کرشن جی گیتامیں ارجن سے کہتے ہیں کہ تم یدھ (جنگ) کرو مگر یہ کوئی مطلق یا عمومی بات نہیں تھی۔ یعنی اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ہندو ہر زمانہ میں ہر قوم سے لڑتے رہیں۔ یہ صرف ایک وقتی حکم تھا اسی طرح قرآن میں قتال کا حکم وقتی حکم ہے نہ کہ کوئی مطلق یا عمومی حکم۔

۲ اکتوبر ۹۸ کو ہوٹل نور الصباح میں شام کی چائے کا پروگرام تھا۔ میں کئی لوگوں کے ساتھ وہاں پہنچا۔ یہ ایک نیا ہوٹل ہے جو بھوپال کا پہلا فائیو اسٹار ہوٹل ہے۔ وہ نواب بھوپال کے ایک محل کو از سر نو مزین کر کے بنایا گیا ہے۔ یہاں ہم نے مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی۔ جس کمرہ میں نماز ادا کی گئی وہ اس ہوٹل کا اعلیٰ ترین سوئٹ تھا جس کا روزانہ کا کرایہ ساڑھے گیارہ ہزار روپیہ ہے۔ اس ہوٹل کے مالک مسلمان ہیں۔

ہوٹل کے مینیجر مسٹر انوراگ پاٹھک (۲۶ سال) نے نہایت ذوق و شوق کے ساتھ ہوٹل کے مختلف حصے دکھائے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے باپ ایک مسلمان صوفی سے بہت متاثر ہیں۔ باپ کے اثر سے میں بھی اسلام سے بہت قریب ہوں۔

جناب عبد الوحید خاں صاحب (بھوپال یونیورسٹی) سے میں نے پوچھا کہ آپ اپنی زندگی کا کوئی انوکھو بتائیے۔ انھوں نے ایک ایسی بات کہی جو ہر انسان کے لئے اہمیت رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میری عادت ہے کہ جب میں کسی کے خلاف کوئی بری بات سنتا ہوں تو اس کو ماننے سے پہلے اس کی تحقیق کرتا ہوں۔ جب تک تحقیق سے بات ثابت نہ ہو جائے میں اس کو نہیں مانتا اور نہ اس کا چرچا کرتا ہوں۔ بطور مثال انھوں نے کہا کہ الرسالہ مشن کے بارے میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page