بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۴۲
میں نے بہت سی نامناسب باتیں سنیں مگر میں نے ایسا نہیں کیا کہ میں ان کو فُوراً امان لوں بلکہ میں نے اس کی باقاعدہ تحقیق شروع کر دی آخر کار تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ سب بے بنیاد الزامات تھے۔ ۲ اکتوبر کی شام کو ملار موزی سنسکرتی بھون میں آخری اجتماع تھا۔ مدھیہ پردیش کے گورنر ڈاکٹر بھائی مہاویر اور دوسرے کئی لوگ موجود تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ امن کی طاقت تشدد کی طاقت سے زیادہ ہے۔ اس معاملہ کو مختلف مثالوں سے واضح کیا۔ ۲ اکتوبر کو رات کے کھانے کا انتظام عبد الوحید خاں صاحب کی طرف سے تھا۔ وہ کھانا لے کر ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کے مکان پر آگئے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ یہیں کھانا کھایا اس کے بعد دیر تک لوگوں سے بات چیت ہوتی رہی۔
ایک خاتون جو الرسالہ کی قاری ہیں انھوں نے کہا کہ مجھے طرح طرح کے اندیشے آتے ہیں جن کی وجہ سے میں پریشان رہتی ہوں۔ میں نے انھیں ایک کاغذ پر یہ جملہ لکھ کر دیا۔ اندیشوں کے سلسلہ میں سب سے زیادہ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ بیشتر اندیشے کبھی واقعہ نہیں بنتے۔ ۳ اکتوبر ۱۹۹۸ کی صبح کو بھوپال سے واپسی ہوئی۔ ساتھیوں کے ہمراہ ہوٹل سے چل کر بھوپال ائْر پورٹ پہنچا۔ یہاں بھی گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔
جناب محمد ذاکر صاحب اور جناب محمد مبین صاحب نے مشترک طور پر یہ بات بتائی کہ آج کل ایک نیا کاروبار ہر جگہ زوروں پر ہو رہا ہے۔ پرائیوٹ طور پر مالی ادارے بنائے جاتے ہیں جن کو نان بینکنگ فنانشیل انسٹیٹیوٹ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ بڑے بڑے خوشنما وعدوں پر لوگوں سے رقمیں حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ آپ ہمیں ایک لاکھ روپیہ دیں ہم آپ کو ۳۶ ہزار روپے سالانہ بطور نفع دیتے رہیں گے وغیرہ۔ اس طرح ان لوگوں کے پاس تھوڑی مدت میں اربوں روپے جمع ہو جاتے ہیں۔
چند سال یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اس کے بعد کمپنی اچانک مارکیٹ سے اس طرح غائب
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues