Al-Risala · April 1999 · page 20

پیغمبر کی شخصیت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۲۰

کے لئے آپ کو نماز سے مدد لینا چاہیئے، نہ صرف عام نماز بلکہ تہجد کی نماز بھی جس کو قرآن میں نافلہ یعنی صلاۃ مزید کہا گیا ہے (الاسراء ۷۹)

یہ رو داد اس معاملہ میں آپ کی نفسیاتی حالت کو بتاتی ہے۔ خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے آپ کا نامزد کیا جانا بلا شبہ ایک عظیم ترین عہدہ پر آپ کو فائز کرنا تھا۔ عام انسان اس کو فضیلت کے روپ میں دیکھتے تھے۔ (المومنون ۲۴) لیکن پیغمبرِ اسلام نے اس نامزدگی کو فضیلت یا فخر کے طور پر نہیں لیا، بلکہ آپ نے اس کو تمام تر ذمہ داری کے معنی میں لیا۔ واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں ذمہ داری کا پہلو آپ پر اتنا غالب آیا کہ آپ کو ادنیٰ درجہ میں بھی اس کا احساس نہیں ہوا کہ یہ فضیلت یا اعزاز کا معاملہ ہے۔

پیغمبر اسلام کی نسبت قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آپ ایک بشر تھے۔ آپ کا بشر ہونا آپ کی عظمت کو گھٹاتا نہیں بلکہ اس کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ آپ کی حقیقی عظمت کا راز یہ ہے کہ آپ پیدائش کے اعتبار سے ایک بشر تھے۔ مگر آپ نے اپنے غیر معمولی عمل سے فوق البشر جیسا کارنامہ انجام دیا۔

آپ پر محتاجی اور فراوانی دونوں قسم کے احوال گذرے مگر آپ ہر حال میں اعتدال پر قائم رہے۔ آپ کے خلاف لوگوں نے فوج کشی کی مگر جب وہ شکست کھا کر گرفتار ہوئے تو آپ نے انھیں یک طرفہ طور پر معاف کر دیا۔ آپ کو ایک پورے ملک میں حکمرانی کا درجہ ملا۔ مگر آپ نے ایک عام انسان جیسی زندگی گزاری۔ وغیرہ۔

کمال یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص پیدائشی طور پر عظیم پیدا ہو۔ کمال یہ ہے کہ وہ پیدائشی طور پر ایک عام انسانی حیثیت سے پیدا ہو۔ مگر اپنے عمل سے وہ اپنے آپ کو عظمت کے اعلیٰ مقام پر پہنچادے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page