Al-Risala · April 1999 · page 26

پکنورزن آفاقی اصول

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۲۶

حکم سے اور جو زمین خراب ہے اس کی پیداوار صرف ناقض نکلتی ہے۔ اسی طرح ہم اپنی نشانیاں مختلف پہلوؤں سے دکھاتے ہیں ان کے لئے جو شکر والے ہیں۔ (الاعراف ۵۸)

اس بات کو قرآن میں ایک اور مقام پر اس طرح بیان کیا گیا ہے: کیا تم نے نہیں دیکھا، کس طرح مثال بیان فرمائی اللہ نے کلمہ طیبہ کی۔ وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے۔ اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر وقت پر اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور اللہ لوگوں کے لئے مثال بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک خراب درخت کی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے۔ اس کو کوئی ثبات نہ ہو۔ اللہ ایمان والوں کو ایک پکی بات سے دنیا اور آخرت میں مضبوط کرتا ہے۔ اور اللہ ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے۔ اور اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ (ابراہیم ۲۴۔۲۷) قرآن کی ان آیتوں میں اس فرق کو بتایا گیا ہے جو سچائی کو پائے ہوئے انسان اور سچائی کو نہ پائے ہوئے انسان کے درمیان ہوتا ہے۔ جو آدمی سچائی کو نہ پائے وہ گویا ایک جھاڑی کی مانند ہے جو زمین کے اوپر اگ آتی ہو۔ ایسی جھاڑی کچھ دن تک بے فائدہ طور پر زمین کے اوپر رہتی ہے۔ اور اس کے بعد وہ یا تو خود مٹ جاتی ہے یا اکھاڑ کر پھینک دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ایک مفید اور پھل دار درخت زمین کے اوپر اس طرح اگتا ہے جیسے کہ وہ زمین کے لئے ہے اور زمین اس کے لئے۔ وہ زمین اور فضا سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہوئے خوب ترقی کرتا ہے۔ اس سے لوگوں کو ہر قسم کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ وہ زمین پر ایک مطلوب اور بامعنی وجود کے طور پر کھڑا ہوادکھائی دیتا ہے۔

پکنورزن آفاقی اصول

اس معاملے کا ایک پہلو اور ہے جس کی طرف قرآن میں بار بار اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ کنورزن کا معاملہ محدود طور پر صرف مذہب کی تبدیلی کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک آفاقی اصول ہے۔ موجودہ کائنات میں تمام ترقیاں اسی کنورزن کے طریقہ پر ظہور میں آئی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page