Al-Risala · April 1999 · page 27

پکنورزن آفاقی اصول

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۲۷

کائنات اپنی ابتدا میں ایک بند مادہ کی صورت میں تھی، پھر اس میں داخلی تغیر ہوا۔ یہ بند مادہ کھل کر پھیلنا شروع ہوا یہاں تک کہ موجودہ وسیع کائنات بن گئی۔ (الانبیاء۔ ۳۰)زمین سوکھی پڑی ہوئی ہوتی ہے پھر بارش کے ذریعہ اس میں تغیرات پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ چٹیل میدان ہری بھری فصلوں اور شاداب درختوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ (الحج ۵)

اسی طرح کچھ بظاہر غیر ذی روح اجزاء ایک مادہ کے بطن میں مخصوص تغیرات کے مراحل سے گزرتے ہیں یہاں تک کہ وہ ایک مکمل قسم کے ذی روح وجود کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس کا نتیجہ چلتے پھرتے انسان اور چلتے پھرتے حیوان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے(الانہام ۹۶)اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گائے کے پیٹ میں گھاس اور دانہ داخل ہوتا ہے۔ وہ اس کے اندر ایک قدرتی نظام کے تحت کچھ تغیراتی مراحل سے گزرتا ہے یہاں تک کہ وہ دودھ کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو انسان کے لئے ایک نہایت قیمتی غذا ہے۔ (النحل ۶۶) وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے قدرتی مظاہر کی مثال دے کر قرآن میں یہ حقیقت بتائی گئی ہے کہ یہ دنیا کنورزن کے عالمی اصول پر قائم ہے۔ یہاں ہر قسم کی ترقیاں ہمیشہ تغیراتی عمل(process) سے گذر کر وقوع میں آتی ہیں۔ ایک چیز اپنی ابتدائی حالت میں کچھ ہوتی ہے، اور پھر اس پر تغیر و تبدل کا عمل واقع ہوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ چیز ایک نئی بہتر چیز بن جاتی ہے۔ ........ دو قسم کے بادلوں کے ٹکراؤ سے نائٹروجن کا پیدا ہونا، دو قسم کی گیسوں کے ملنے سے پانی کا وجود میں آنا، خام لوہے کا متغیر ہو کر اسٹیل بن جانا۔ مختلف قسم کے کیمیکل کی آمیزش سے نئی نئی مفید دھاتوں کا بننا، وغیرہ وغیرہ۔

یہ سب وسیع تر معنوں میں کنورزن کی مثالیں ہیں۔ یہی کنورزن انسانی افکار کی دنیا میں بھی کار فرما ہے۔ اس دنیا میں مسلسل طور پر افکار کے درمیان ٹکراؤ جاری ہے۔ اسی ٹکراؤ کے عمل سے ایک فکر بدل کر دوسرے بہتر فکر کی صورت اختیار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر دنیا میں سینکڑوں سال تک شمسی نظام کے بارے میں زمین مرکزی نظریہ (geo-centric theory) کا

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page