کنورژن کی حقیقت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۲۸
غلبہ تھا۔ پھر فکری تصادم کے نتیجہ میں اس میں تغیر شروع ہوا۔ یہاں تک کہ زمین مرکزی نظریہ کو علمی دنیا میں رد کر دیا گیا اور اس کی جگہ آفتاب مرکزی نظریہ(helio-centric theory) کو زیادہ صحیح قرار دے کر اس کو قبول کر لیا گیا وغیرہ۔
افکار کی دنیا میں اسی کنورژن کی ایک مثال وہ ہے جس کو ند ہی کنورژن کہا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے مذہبی کنورژن فطرت کی وسیع تراسقیم کا صرف ایک جز ہے۔ یہ جز بھی اتناہی مطلوب اور ضروری ہے جتنا کہ اس کا کل۔
حقیقت یہ ہے کہ کنورژن فطرت کا قائم کردہ ایک عالم گیر قانون ہے۔ مادی دنیا کی تمام ترقیاں اسی کنورژن کے اصول پر ہو رہی ہیں۔ زندہ اشیاء (اننسان اور حیوان) کا جسمانی ارتقا تمام تر اسی کنورژن کے اصول پر ہوتا ہے۔ اسی طرح افکار کی دنیا میں ہزاروں سال سے جو ترقیاں ہو رہی ہیں وہ سب کی سب اسی کنورژن کے اصول کو اختیار کرنے کی بنا پر ہو رہی ہیں۔ یعنی ایک چیز کو حق پا کر پوری طرح اختیار کر لینا۔ اس دنیا کا کوئی بھی ترقیاتی واقعہ اس کنورژن کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی معاملہ مذہب کا بھی ہے جو کہ روحانی سچائی کا دوسرا نام ہے۔ وہی مذہب کسی انسان کا مذہب بن سکتا ہے جس کو کسی آدمی نے ذاتی تلاش کے نتیجہ میں دریافت کیا ہو۔ مذہب کا نہایت گہرا تعلق یقین سے ہے اور یقین کا تعلق دریافت (discovery) سے۔ دریافت کے بغیر یقین نہیں ، اور یقین کے بغیر مذہب نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص پیدائشی طور پر سچے مذہب کے ماحول میں پیدا ہو تب بھی وہ صرف آبائی تعلق کی بنا پر اس مذہب کو نہیں پا سکتا۔ مذہب کو بطور ایک یقینی صداقت کے پانا اس کے لئے صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ وہ خود اپنے مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ اس کو پائے، وہ ایک معلوم چیز کو دوبارہ دریافت(re-discover)کرے۔
کنورژن کی حقیقت
کنورژن کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی کچھ رسمی الفاظ ادا کرے ۔ اور اپنا نام بدل کر ایک
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues