کنورژن کی حقیقت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۲۹
کلچرل گروپ کو چھوڑ کر دوسرے کلچرل گروپ میں شامل ہو جائے۔ کنورژن کا مطلب تبدیلی مذہب نہیں بلکہ تبدیلی شخصیت ہے۔ کنورژن یہ ہے کہ ایک آدمی تلاش حقیقت میں سرگرم ہو۔۔ تحقیق و جستجو کے تمام مراحل سے گزرے اور پھر اس کے نتیجہ میں اس کے اندر ایک نئی شخصیت کا ارتقاء ہو۔ کنورژن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک نئی شخصیت کے ظہور کا نام ہے۔ ایسی ایک شخصیت کا بننا انسانی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ جب کسی سماج میں بڑی تعداد میں پیدا ہو جائیں تو وہ تاریخ کا عظیم ترین کارنامہ ظہور میں لاتے ہیں۔ کنورژن در حقیقت ڈسکوری (دریایفت) کے نتیجہ میں پیش آنے والا واقعہ ہے۔ ایک عظیم ڈسکوری کے بعد آدمی وہی نہیں رہتا جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ اب وہ مکمل طور پر ایک نیا انسان ہوتا ہے۔ اسی قسم کی انقلابی تبدیلی کا نام کنورژن ہے۔ یہ تمام تر ذاتی فیصلہ کے تحت ہوتا ہے۔ کسی خارجی لالچ یا دباؤ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
کنورژن کا مطلب یہ ہے کہ ایک نہ پایا ہوا انسان پایا ہوا انسان بن جائے۔ ایک بے خبر انسان باخبری کے دور میں پہنچ جائے۔ ایک سویا ہوا انسان اپنے حواس کے ساتھ جاگ اٹھے۔ ایک شخص جو اندھے پن میں جی رہا تھا وہ بینا بن کر جینے کے قابل ہو جائے۔ ایک شخص جس کو اپنی کوششوں کا مرکز نہیں ملا تھا اس کو اپنی کوششوں کا ایک معلوم مرکز مل جائے۔ ایک شخص جو محدود دنیا میں جی رہا تھا وہ لا محدود دنیا میں داخل ہو کر سانس لینے لگے۔ ایک شخص جو صرف اپنے جسم کے دائرہ میں جی رہا تھا وہ اس سے اوپر اٹھ کر فکر کی اعلیٰ سطح پر جینے کا سامان کرلے۔ ایک شخص جو بے مقصد حالت میں بھٹک رہا تھا اس کو با مقصد زندگی کا راز معلوم ہو جائے۔ کنورژن۔۔۔ ایک صحت مند تاریخی عمل غالباً ۱۹۹۰ء میں میں نے ایک ہندوستانی رائٹر کی ایک کتاب پڑھی تھی۔ اس کا نام کنورژن کی سیاست (Politics of Conversion) تھا۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے کہا کہ اس کتاب سے مجھ کو صرف ایک اختلاف ہے۔ وہ یہ کہ کتاب کا نام (ٹائٹل) درست نہیں۔ اس کا صحیح نام
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues