کنورژن کی حقیقت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۳۰
ہونا چاہئے: کنورژن کو سیاسی بنانا (Politicisation of Conversion) یعنی ایک سادہ فطری حقیقت کو سیاسی رنگ دے کر اس میں غیر ضروری طور پر سنسنی خیزی پیدا کرنا۔ کنورژن کیا ہے۔ عام طور پر کنورژن کو مذہب بدلنے (proslytisation) کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ کنورژن اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کنورژن فطرت کا ایک آفاقی قانون ہے۔ وہ ایک صحت مند تاریخی عمل ہے جو ناگزیر طور پر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ کنورژن کو روکنے کی کوشش کرنا گویا تاریخ کو روکنے کی کوشش کرنا ہے اور کوئی بھی اتنا طاقتور نہیں کہ وہ تاریخ کے عمل کو روک سکے۔ کنورژن اپنی حقیقت کے اعتبار سے دو چیزوں کے ٹکراؤ سے ایک اور چیز کا پیدا ہونا ہے۔ یہ فطرت کا قائم کردہ ایک آفاقی قانون ہے جو خود اپنے زور پر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔
انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عمل اس کے اندر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ کارل مارکس نے اس کو غلط طور پر جدلیاتی مادیت (dialectical materialism) سے تعبیر کیا تھا۔ زیادہ صحیح طور پر یہ ڈائیلاگ۔ کنورژن پر اس کا ہے۔ یعنی جب دو فکری نظام کے درمیان بحث و تبادلہ ہوتا ہے تو اس کے بعد ایک فکری انقلاب برآمد ہوتا ہے۔ ڈائیلاگ۔ کنورژن پر اس کا یہ عمل ہی تمام انسانی ترقیوں کا واحد زینہ ہے۔ جب بھی دنیا میں کوئی تہذیبی انقلاب آیا ہے یا کسی انسانی گروہ نے اٹھ کر کوئی تخلیقی کارنامہ انجام دیا ہے تو وہ ہمیشہ اسی ڈائیلاگ۔ کنورژن پر اس ہی کے ذریعہ ظہور میں آیا ہے۔
اس عمل کی کوئی ایک صورت نہیں۔ یعنی یہ مذہبی بھی ہو سکتا ہے اور غیر مذہبی بھی۔ پچھلے ڈیڑھ ہزار سال کی تاریخ میں اس کی دو بڑی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ ایک مذہبی کنورژن کی صورت میں اور دوسری سیکولر کنورژن کی صورت میں۔
عربوں کی تاریخ مذہبی کنورژن کی مثال ہے۔ چھٹی صدی عیسوی تک عرب ایک مشرکانہ نظام کے تحت محدود قبائلی زندگی گزار رہے تھے۔ اس کے بعد ساتویں صدی کے آغاز
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues