Al-Risala · April 1999 · page 31

Conflict between Science and Religion

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۳۱

میں اسلام یعنی دین توحید کا ظہور ہوا۔ اس کے بعد دین شرک اور دین توحید کے درمیان زبردست ڈائیلاگ شروع ہوا۔ (بحث و مباحثہ) یہ ڈائیلاگ مزید شدت اختیار کر کے جارحانہ تصادم تک پہنچ گیا۔ اس ڈائیلاگ اور تصادم کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ عربوں کے اندر ایک نئی سوچ ابھری۔ بڑھتے بڑھتے وہ ایک عظیم فکری انقلاب بن گئی۔

اس ذہنی انقلاب یا اس فکر نو کی دریافت کا نتیجہ یہ ہوا کہ عربوں کے اندر ایک نئی شخصیت ابھری۔ ایک یورپی مورخ کے الفاظ میں، ان میں کا ایک ایک شخص اس طرح انقلابی شخصیت بنا کہ پوری قوم ہیروز کی ایک قوم (a nation of heroes) بن گئی۔ ہیروز کی اس قوم نے صرف پچاس سال کے اندر وہ تاریخی واقعہ برپا کیا جس کو ایک مورخ نے (miracle of all miracles) معجزات کا معجزہ قرار دیا ہے۔ بری فالٹ نے اس کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے کہ عربوں کے بغیر جدید مغربی تہذیب سرے سے وجود ہی میں نہیں آسکتی تھی۔

But for the Arabs, the western civilization would never have arisen at all. دوسری مثال یورپ کی مسیحی قوموں کی ہے۔ صلیبی جنگوں (کروسیڈس) کے بعد کئی سو سال کے تاریخی عمل کے دوران یہاں بھی ایک کنورژن ہوا۔ یہ کنورژن مذہبی نہیں تھا بلکہ ایک قسم کا سیکولر کنورژن تھا۔ چرچ اور سائنس کے درمیان زبردست مقابلہ پیش آیا۔ اس مقابلہ کی ایک روداد مندرجہ ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے:

Conflict between Science and Religion

یہ مقابلہ ڈائیلاگ اور ٹکراؤ کی صورت میں کئی سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ یورپی قوموں کے اندر ایک نیا فکری انقلاب آیا جس میں انھوں نے قدیم کو چھوڑا اور جدید کو اختیار کر لیا۔ اس انقلاب کو عام طور پر نشاۃ ثانیہ (renaissance) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس انقلاب نے یورپی قوموں کو اس قابل بنایا کہ وہ تاریخ کا عظیم ترین کارنامہ انجام دے سکیں۔ وہ تاریخ انسانی کو روایتی دور سے نکال کر سائنسی دور میں پہنچا دیں۔ اصل یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page