Conflict between Science and Religion
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۳۲
انسان کا دماغ لامحدود طاقتوں کا ایک قدرتی خزانہ ہے۔ عام حالات میں یہ دماغ سویا ہوا رہتا ہے۔ یہ صرف خارجی جھٹکے ہیں جو اس کو بیدار کرتے ہیں۔ یہ شاک ٹریٹمنٹ کا ایک عمل ہے۔ جتنا بڑا شاک ہو اتنا ہی بڑا ذہنی انقلاب انسان کے اندر پیدا ہوگا۔ یہ شاک ٹریٹمنٹ انسان کے اندر وہ چیز پیدا کرتا ہے جس کو نفسیات کے علماء دماغی طوفان (brain storming) کہتے ہیں۔ یہ دماغی طوفان آدمی کے اندر ایک نئی فکری تبدیلی، ایک نیا کنورژن وجود میں لاتا ہے۔ یہ کنورژن کسی قوم کے افراد کو ایک عام انسان سے اٹھا کر غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے اور پھر وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ بڑے بڑے کارنامہ انجام دے سکے۔
مذہبی کنورژن اس پورے عمل کا ایک چھوٹا سا جز ہے۔ تاہم جب ڈائیلاگ۔ کنورژن پر اس چلتا ہے تو اس کو کسی حد کا پابند کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ لوگ فلاں فلاں قسم کا کنورژن کریں، اور مذہبی کنورژن نہ کریں۔ یہ ایک لامحدود سیلابی عمل ہے۔ اور سیلاب جب آتا ہے تو وہ کسی حد بندی کو قبول نہیں کرتا۔
جہاں تک مذہبی کنورژن کا تعلق ہے وہ صرف غیر مذہب کو قبول کرنے کے ہم معنی نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی کنورژن کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک انزی فیتھ کنورژن، دوسری انٹر فیتھ کنورژن۔ مثال کے طور پر سوامی وویکانند پہلے ایک ماڈرن قسم کے نریندر نا تھ تھے۔ پھر رام کرشنا پرم ہنس سے ان کا ذہنی ٹکراؤ ہوا جس کے بعد وہ سوامی وویکانند بن گئے۔ یہ داخلی کنورژن (انزی فیتھ کنورژن) کی ایک مثال ہے۔
اس طرح اسی زمانہ کے ایک اور بنگالی ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیائے (وفات تاریخ) کا فکری تصادم مختلف مذاہب سے ہوا۔ وہ کئی زبانیں جانتے تھے۔ انھوں نے پہلے فلسفہ کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے ایک درجن بڑے بڑے مذاہب کا مطالعہ کیا۔ آخر میں وہ ایک فکری دریافت تک پہنچے۔ انھوں نے اپنے آبائی مذہب ہند وازم کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ اور اپنا نام عزیز الدین رکھا۔ انھوں نے اپنے اس فکری ارتقاء کی داستان ایک کتاب کی صورت میں لکھی ہے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues