Conflict between Science and Religion
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۳۴
سماج بن گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کے اندر انقلابی روح کبھی بھی ''ماضی کی طرف واپسی‘‘ سے نہیں پیدا ہوتی۔ یہ صرف جدید کی دریافت سے پیدا ہوتی ہے۔ انقلابی شخصیت کا ظہور قدیم کی طرف واپسی سے نہیں ہوتا بلکہ جدید کی طرف اقدام سے ہوتا ہے اور احیائی تحریک اپنی آخری تعریف کے مطابق صرف قدیم کی طرف واپسی کے ہم معنی ہے۔ وہ جدید کی دریافت یا جدید کی طرف اقدام کے ہم معنی بلاشبہ نہیں۔
سوامی وویکانند نے کہا تھا کہ ہندو قوم ورلڈ لیڈر بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ مگر یہ انقلابی واقعہ ''احیا ماضی‘‘ جیسی کسی تحریک کے ذریعہ ظہور میں نہیں آسکتا جیسا کہ اب تک نہیں ہوا۔ ایسا واقعہ جب بھی پیش آئے گاوہ جدید کی دریافت یا نئے فکری انقلاب کے ذریعہ ہوگا۔ خواہ یہ فکری انقلاب مذہبی کنورژن کی صورت میں ہو یا سیکولر کنورژن کی صورت میں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ کنورژن کا یہ واقعہ صرف انفرادی سطح پر نہ ہو بلکہ عوامی سطح پر ہو۔ اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی قوم کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکے اور تاریخ عالم میں اپنا نام روشن کرے۔ خلاصہ یہ کہ کنورژن محدود طور پر مذہبی تبدیلی کا معاملہ نہیں، یہ دریافت نو کا معاملہ ہے۔ اور نفسیات اور تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی فرد یا کسی قوم کو متحرک کرنے کے لئے نیز اس کے اندر اخلاقی انقلاب لانے کے لئے سب سے زیادہ جو چیز مؤثر ہوتی ہے وہ یہی دریافت (discovery) ہے۔ یہ احساس کہ میں نے ایک ایسی سچائی دریافت کی ہے جواب تک مجھے معلوم نہ تھی انسان کی تمام سوئی ہوئی طاقتوں کو جگادیتا ہے۔ وہ ایک عام انسان کی سطح سے اٹھ کر ایک ہیرو انسان بن جاتا ہے۔ اسی قسم کے ہیرو انسان ہیں جو سمندروں میں چھلانگ لگاتے ہیں، جو پہاڑوں کو پھاند جاتے ہیں، جو اپنے ہیروانہ کردار کے ذریعہ تاریخ کو نئے دور میں داخل کر دیتے ہیں۔ آج انسانی تاریخ دوبارہ ایک تعطل (deadlock) سے دوچار ہے۔ تاریخ کو دوبارہ انتظار ہے کہ کوئی قوم دریافت نو کے تجربہ سے گزرے۔ وہ نئی انسانی طاقتوں سے بھرپور ہو کر تاریخ انسانی کو وہ دھکا دے جو اس کو ایک نئے اور بہتر دور میں پہنچادے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues