Al-Risala · April 1999 · page 35

مراقبہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۳۵

مراقبہ

مراقبہ کے لفظی معنی ہیں نگرانی کرنا۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ ھورقیب نفسہ، وہ اپنا نگرال آپ ہے۔ تصوف کی اصطلاح میں مراقبہ کا مطلب ہے دھیان کرنا، تصور کی دنیا میں غرق ہو کر اپنا مراقب بن جانا۔

عام طور پر مراقبہ اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص لوگوں سے الگ ہو کر تنہائی میں بیٹھ جائے اور ذکر واذکار اور اوراد و وظائف میں مشغول ہو جائے۔ مگر یہ مراقبہ کا صرف ظاہری پہلو ہے، یہی کل مراقبہ نہیں۔ اصل مراقبہ اس سے زیادہ وسیع چیز کا نام ہے۔ اصل مراقبہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو ظاہری چیزوں سے ہٹا کر باطنی حقیقتوں کی طرف لے جایا جائے۔

یہ دنیا جس میں ہم جیتے ہیں وہ دو دنیاؤں کا مجموعہ ہے۔ چیزوں کی دنیا (world of things) اور معانی کی دنیا (world of meanings) ظاہر پسند اور مادہ پرست لوگ چیزوں کی دنیا میں اٹکے ہوئے رہتے ہیں، اس سے آگے کی انھیں کوئی خبر نہیں رہتی۔ لیکن گہری نگاہ والے لوگ اس سے اوپر اٹھ کر معنوی دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ دونوں کا فرق ایک مثال سے واضح ہوتا ہے ۔ آپ کے سامنے ایک درخت ہے۔ آپ اس کو دیکھتے ہیں۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ آپ کی نظر اس کی ٹہنیوں، پتیوں اور پھولوں اور پھلوں تک محدود رہے۔ یہ ظاہری سوچ ہے۔ یہ مراقبہ والی سوچ نہیں۔ اس کے بجائے اگر پیڑ کو دیکھ کر آپ سوچنے لگیں اور آپ کی سوچ اس حقیقت تک پہنچے کہ پیڑ کے اندر ایک انوکھی صفت ہے کہ وہ آپ کی سانس سے نکلی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ کو فضا سے لے کر اپنی خوراک بناتا ہے اور اس کے بجائے آکسیجن آپ کی طرف لوٹاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ مضر گینس لے لیتا ہے اور اس کے بدلے میں مفید گیس آپ کی طرف واپس کرتا ہے۔ پہلی سوچ سطحی یا مادی سوچ ہے اور دوسری سوچ روحانی سوچ۔ پہلی سوچ والا درخت کو دیکھ کر صرف اس کے بعض ظاہری پہلوؤں کو پاتا ہے۔ مگر دوسری سوچ والا جب درخت کو دیکھتا

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page