Al-Risala · April 1999 · page 36

مراقبہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۳۶

ہے تو اس پر معنوی اسرار کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اسی دوسری سوچ کا نام مراقبہ ہے۔ ایسے آدمی کے لئے درخت کو دیکھنا ایک عظیم روحانی ترقی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کے اندر یہ مزاج بنتا ہے کہ وہ بھی اس دنیا میں درخت کی طرح جئیے۔ اس کو دوسروں کی طرف سے نفرت ملے تب بھی وہ انھیں محبت کا تحفہ دے۔ دوسرے لوگ اسے ستائیں تب بھی وہ ان کا ہمدرد اور خیر خواہ بنا رہے۔ اسی طرح مثلاً ایک گاۓ ہے۔ ایک پولیٹیکل آدمی اس کو دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ خیال آجاتا ہے کہ گاۓ کو اشو بنا کر وہ گاۓ کو مقدس سمجھنے والوں کی سیاسی حمایت حاصل کر سکتا ہے یا گاۓ کو اپنا انتخابی نشان بنا کر وہ ایک طبقہ کے اندر اپنا ووٹ بینک بنا سکتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا آدمی وہ ہے جو گاۓ کو دیکھے تو اس کے ذہن میں یہ خیال آجاۓ کہ گاۓ فطرت کی ایک انڈسٹری ہے۔ وہ گھاس کھاتی ہے اور اس کو دودھ میں کنورٹ کرکے ہماری طرف لوٹاتی ہے۔ پہلے آدمی نے گاۓ کے صرف ظاہر کو دیکھا تھا لیکن دوسرا آدمی گاۓ کی اندرونی حقیقت تک پہنچ گیا۔

اسی دوسرے طریقہ کا نام مراقبہ ہے۔ ایسے آدمی کے اندر یہ سوچ ابھرے گی کہ وہ بھی اپنے آپ کو خدا کی ایک انڈسٹری بناۓ۔ اگر کوئی آدمی اسے گالی دے تو اس کے جواب میں وہ اس کو دعائیں دے۔ کوئی آدمی اس کے خلاف اشتعال انگیزی کرے تو وہ اس کے خلاف اعراض کا معاملہ کرے۔ کوئی شخص اس کے ساتھ برائی کرے تو وہ اس کو بھلائی کا تحفہ پیش کرے۔ اصلی مراقبہ یہ ہے کہ آدمی دنیا میں رہتے ہوۓ دنیا سے اوپر اٹھ جاۓ۔ وہ چیزوں میں نہ اٹکے بلکہ ان کے اندر چھپی ہوئی معنوی حقیقتوں کو دریافت کرلے۔ اسی کا نام روحانیت ہے۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ روحانیت ہو وہی حقیقی معنوں میں اس نعمت کو پاتے ہیں جس کو قلب کا سکون کہا جاتا ہے۔

مراقبہ اپنے آپ میں ڈوبنے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ وہ خدا میں ڈوبنے کا نام ہے۔ حقیقی مراقبہ وہ ہے جب کہ ایک شخص اپنی ذات سے اور ساری دنیا سے اوپر اٹھ کر خدا میں غور و فکر کرنے لگے،

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page