مراقبہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۳۷
وہ مخلوقات میں گم ہونے کے بجائے خدا میں گم ہو جائے۔
اس قسم کا مراقبہ آدمی کو بے خود نہیں کرتا بلکہ وہ اس کو خود شناس اور خدا شناس بناتا ہے۔ مراقبہ اس کوشش کا نام ہے جب کہ انسان چھپے ہوئے روحانی تاروں کے ذریعہ خدا سے متصل ہو جائے۔ جب انائے صغیر انائے کبیر سے حیاتی طور پر مربوط ہو جائے۔ انسان اور خدا کے درمیان یہ حیاتی ربط ہی روحانیت کا اصل مقصود ہے۔ یہ حیاتی ربط اس معنی میں نہیں ہوتا کہ انسان خدا میں مل جاتا ہے۔ یہ اتصال دراصل نفسیات کی سطح پر ہوتا ہے۔ انسان اپنے علیحدہ وجود کو باقی رکھتے ہوئے تصور کی سطح پر خدا سے قربت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے۔ جسمانی اعتبار سے خدا سے دور ہوتے ہوئے بھی وہ روحانی اعتبار سے خدا سے انتہائی حد تک قریب ہو جاتا ہے۔
مراقبہ کے لئے کسی تاریک گوشہ میں بیٹھنا ضروری نہیں۔ مراقبہ کا تجربہ ہر جگہ ہو سکتا ہے، حتی کہ ہجوم کے درمیان بھی۔ جب آدمی کا احساس بڑھا ہوا ہو تو کسی بھی تجربہ کے دوران ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کا ربانی شعور جاگ اٹھتا ہے۔ وہ ظاہر میں باطن کا جلوہ دیکھ لیتا ہے۔ وہ مخلوق کے تجربہ میں خالق کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے۔ جب کسی پر یہ کیفیت گزرے تو گویا وہ مراقبہ کی حالت میں پہنچ گیا۔ اس نے سمندر کے ساحل پر رہتے ہوئے سمندر کی گہرائیوں میں اتر کر معرفت کا موتی حاصل کر لیا۔ مراقبہ دراصل تصور کی دنیا میں اپنے رب سے جڑ جانے کا دوسرا نام ہے۔ آدمی کا شعور جتنا زیادہ بیدار ہو اتنا ہی زیادہ اس کو مراقبہ کا تجربہ ہوگا۔ یہاں تک کہ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص ہر لمحہ مراقبہ کی حالت میں پہنچ جائے (ڈاکٹر فریدہ خانم)
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues