مراقبہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۳۸
سوال
خدا کے وجود کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر خدا نہ ہو تا تو کائنات کو کون پیدا کرتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر خدا نے کائنات کو پیدا کیا تو خود خدا کو کس نے پیدا کیا (خوشونت سنگھ، دہلی) جواب یہ ایک غلط قیاس ہے۔ موجودہ زمانہ میں کائنات کے سائنسی مطالعہ سے یہ ثابت ہوا کہ کائنات خود اپنے آپ کو پیدا نہیں کر سکتی۔ ضرورت ہے کہ کائنات کے باہر اس کا کوئی موجد یا خالق پایا جاتا ہو۔ مثال کے طور پر بگ بینک کا نظریہ یہی بتاتا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق، کائنات ایک خارجی دھماکہ سے وجود میں آئی ہے۔ علمی اور عقلی طور پر دیکھا جائے تو ایسی حالت میں ہمارے لئے انتخاب (choice) با خدا کائنات اور بے خدا کائنات میں نہیں۔ بلکہ باخدا کائنات اور غیر موجود کائنات میں ہے۔ چونکہ ہم مجبور ہیں کہ کائنات کو موجود مانیں، اس لئے ہم مجبور ہیں کہ خدا کے وجود کو بھی مانیں۔ خدا کے وجود کو مان کر ہم کائنات کے وجود کی توجیہہ پا لیتے ہیں۔ جب کہ خدا کے وجود کو نہ ماننے کی صورت میں خود کائنات بلا توجیہہ رہ جاتی ہے، اور علمی طور پر یہ توجیہہ قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ سوال آپ دعوتی نقطہ نظر سے ایک کام کر رہے ہیں لیکن اسی کے ساتھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلم دشمن عناصر کے لئے مواد فراہم کرتے ہیں۔ مثلاً جا بجا مسلمانوں کی خامیوں کا ذکر کرنا وغیرہ۔ اس سے انھیں موقع ملتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو مطعون کر سکیں ۔ آپ کو اس سے احتراض کرنا چاہئے۔ (خالد ندوی، دہلی)
جواب
الرسالہ کا مقصد خاص طور پر مسلمانوں کی اصلاح ہے۔ اسی لئے میں الرسالہ کو ایک نصیحت نامہ کہتا ہوں۔ نصیحت کا یا اصلاح کا طریقہ کیا ہے اس کو جاننے کا واحد ذریعہ قرآن ہے۔ نصیحت یا اصلاح کے بارے میں قرآن کا جو اسلوب ہے وہی اسلوب میں نے اختیار کیا ہے۔ اور قرآن کا اسلوب اس معاملہ میں یہی ہے کہ جہاں کوئی داخلی کو تاہی نظر آئے اس کو کھلے طور پر ظاہر کیا جائے۔ اس سلسلہ میں مذکورہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues