Al-Risala · April 1999 · page 39

مراقبہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۳۹

قسم کے اندیشے کا لحاظ کرنا قرآنی اسلوب کے سراسر خلاف ہے اور اسی لئے بے فائدہ بھی۔ مثال کے طور پر غزوہ بدر کے بعد دشمنوں کے ستر آدمی گرفتار ہو کر مدینہ آئے۔ چند صحابہ (حضرت عمر فاروق اور حضرت سعد بن معاذؓ) کی رائے یہ تھی کہ ان کے جنگی جرم کی بنا پر انھیں قتل کر دیا جائے۔ لیکن اکثر صحابہ بشمول حضرت ابو بکرؓ اور خود رسول اللہ ﷺ کی رائے یہ ہوئی کہ فدیہ لے کر انھیں چھوڑ دیا جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا عتاب اترا اور فرمایا گیا کہ ۔ ۔۔ تم دنیا کا مال چاہتے ہو اللہ چاہتا ہے آخرت (الانفال ۶۷) یہ آیت بظاہر یہ بتاتی ہے کہ صحابہ کی اکثریت خدا خواہستہ حب مال میں مبتلا ہو گئی تھی۔ اگر نصیحت کا مذکورہ معیار درست ہو تو قرآن کو مسلمانوں کی اس کمزوری کا اس طرح اظہار نہیں کرنا چاہئے تھا کیوں کہ اس طرح اغیار کو یہ کہنے کا موقع مل رہا تھا کہ تم لوگوں کی ساری جدوجہد مال کے لئے ہے۔ اس اندیشے کے باوجود قرآن میں مذکورہ تنبیہ نازل کی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے مطابق نصیحت کے معاملہ میں مذکورہ قسم کا اندیشہ سراسر غیر معتبر ہے۔ اس معاملہ میں حقیقت حال کو جیسا ہے ویساہی بیان کیا جائے گا۔ اس معاملہ میں اخفا کا طریقہ اختیار کرنا اگر مطلوب ہوتا تو قرآن میں مذکورہ آیت ہرگز نازل نہ ہوتی (اس طرح کی کئی اور مثالیں قرآن میں موجود ہیں)

سوال

آپ کہتے ہیں کہ اسلام کی پرامن تبلیغ ہونی چاہئے۔ مگر نبیوں کے واقعات بتاتے ہیں کہ ہر نبی کو وقت کے اقتدار سے سنگھر ش کرنا پڑا۔ ہمیشہ حق کو باطل سے مقابلہ آرائی کرنا پڑا اس لئے پرامن تبلیغ کس طرح ہو سکتی ہے (شکیل احمد، ورور مہاراشٹر)

جواب

ہر نبی نے اقتدار کے خلاف جنگ کی ۔ ۔۔ یہ خود ساختہ مفروضہ ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ جنگ کا تعلق دعوت سے نہیں بلکہ دفاع سے ہے۔ ناگزیر حالات میں حسب استطاعت دفاع کیا جاتا ہے۔ کسی نبی کی تاریخ میں اگر جنگ کا واقعہ پیش آیا تو وہ خارجیت کے خلاف دفاع کے لئے تھا نہ کہ اپنے پیغام کی اشاعت کے لئے۔ اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ پیغمبر کا اپنے ہم عصر لوگوں سے جو ٹکراؤ پیش آیا وہ ایک زمانی چیز تھی۔ قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا اس لئے ہر مذہب کو دوسرے مذہب کے مقابلہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page