Al-Risala · April 1999 · page 40

مراقبہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۴۰

میں تشدد کا تجربہ پیش آتا تھا۔ مگر اب آزادی فکر کا زمانہ ہے۔ اب اظہار رائے کی آزادی کو ہر انسان کا لازمی حق سمجھا جاتا ہے اس لئے اب اگر صحیح اسلوب میں دعوت کا کام کیا جائے تو عملاً متشددانہ ردِ عمل پیش آنے کا کوئی امکان نہیں۔

سوال

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ : کان حقا علینا نصر المومنین (الروم ۴۷) اس آیت کا ترجمہ حضرت شیخ الہند نے اس طرح کیا ہے: اور حق ہے ہم پر مدد ایمان والوں کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکل اوقات میں خدا نصر اور اہل ایمان کی مدد کرتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اس کو اپنے اوپر اہل ایمان کا حق سمجھتا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں پچھلی کئی نسلوں سے مسلمان تقریباً ساری دنیا میں اغیار کی زیادتیوں کا مسلسل شکار ہو رہے ہیں مگر ان پر خدا کی وہ مدد نہیں آتی جو زیادتیوں کا یہ سلسلہ ختم کردے اور مسلمانوں کو دوبارہ سر بلند کردے اور اس طرح ہمارے اوپر خدا کا وعدہ پورا ہو۔ (عبد الرحیم امدادی، مرشد آباد) جواب اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ بلاشبہ بر حق ہے۔ مگر اس آیت میں مومنین کے لفظ سے مراد عمومی مفہوم میں مسلم ملت یا مسلم قوم نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو خدا کے اس مطلوب مشن کو لے کر اٹھیں جس کو رسول اللہ کے زمانہ کے اہل ایمان لے کر اٹھے تھے۔ اور اس میں اپنی جان و مال کی قربانی دی تھی۔ جب اہل ایمان کا کوئی گروہ اس قسم کا ربانی مشن لے کر اٹھے اور کچھ لوگ اس کو چیلنج کریں تو ان کا یہ چیلنج خود خدا کے خلاف چیلنج کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی مخالفانہ کارروائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے خدا کے خلاف ہوتی ہے نہ کہ محض اہل ایمان کے خلاف۔ یہی وجہ ہے کہ خدا ایسے اہل ایمان کی مدد پر آ جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ان کی ان مقابلہ آرائیوں میں خواہ اسلام کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے، ہر حال میں وہ مسلمانوں کی اپنی قومی یا سیاسی لڑائیاں ہیں۔ خدا کا نہ کورہ وعدہ موجودہ قسم کی قومی لڑائیوں پر نہیں ہے بلکہ وہ اصحاب رسول جیسی خالص دینی جد و جہد کے اوپر ہے۔ یہ معاملہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page