Al-Risala · April 1999 · page 46

اسلام کا طریقہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۴۶

رسول اور اس چیز پر ایمان لاؤں جو اللہ کے پاس سے آپ لائے ہیں۔ راوی نے کہا: اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس زور سے تکبیر کہی کہ جو اصحاب گھر میں موجود تھے وہ جان گئے کہ عمر نے اسلام قبول کر لیا (سیرۃ النبی لابن ہشام، الجزء الاول - ۶۸ - ۳۶)

دور اول کا یہ واقعہ ایک رہنما واقعہ ہے۔ اس واقعہ سے کئی نہایت اہم سبق معلوم ہوتے ہیں۔ یہ سبق مختصر طور پر یہ ہیں۔

پہلی بات یہ کہ کوئی شخص اگر مسلمانوں کے پاس آنا چاہے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کو بے روک ٹوک آنے کی اجازت دیں۔ خواہ آنے والا قلم لے کر آنے والا ہو یا تلوار لے کر۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کی نظر خود اپنے دین کی تسخیری طاقت پر ہونا چاہئے نہ کہ دشمن کی دشمنی پر۔ دوسری بات ہے۔ ان کے بارے میں ہمیشہ پر امید رہنا، خواہ بظاہر وہ اسلام اور اہل اسلام کا مخالف ہی کیوں نہ بنا ہوا ہو۔ عمر بن الخطاب اس وقت اسلام کے بارے میں اتنے شدید تھے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "فوالله ما أرى أن تنتهى حتى ينزل الله بك قارعة" (۳۶۸) اس کے باوجود اسلام کی فطری صداقت نے عمر کو اس حد تک متاثر کیا کہ وہ اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو گئے۔

تیسری بات حضرت حمزہ کے قول سے معلوم ہوتی ہے۔ یعنی اس کے حربہ سے اسی کو شکست دینا (قتلناه بسيفه) اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والا جس طاقت سے مسلح ہو کر آ رہا ہے اسی طاقت کو اس کے خلاف استعمال کیا جانا چاہئے۔ موجودہ زمانہ میں قلم نے تلوار کی جگہ لے لی ہے۔ آج کا حریف علم اور قلم کے ذریعہ اسلام پر وار کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ علم اور قلم کے میدان میں اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ تیار کریں تاکہ وہ فریق ثانی کے اپنے ہی میدان میں اس کو شکست دے سکیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page