Al-Risala · April 1999 · page 47

اسلام کا طریقہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۴۷

خبر نامہ اسلامی مرکز۔ ۱۳۹

۱۔ ۵ نومبر ۱۹۹۸ء کو لوک نیتی کے زیر انتظام بھائی ویر سنگھ سدن (گول مارکیٹ نئی دہلی) میں ایک اجتماع ہوا جس کا موضوع جمہوریت اور مذہبیت(religiosity and democracy) تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر اظہار خیال کیا۔ ایک مقرر نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تبلیغ(preaching) کے راستہ میں جو رکاوٹ ڈالے اس سے جنگ کرو۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا کہ یہ اسلام کی تعلیم نہیں ہے۔ تبلیغ مکمل طور پر ایک پر امن عمل ہے۔ تبلیغ اسی دائرہ میں کی جائے گی جس دائرہ میں نظام اس کی اجازت دیتا ہو۔ مثلاً مکہ کے ابتدائی دور میں علانیہ تبلیغ کی صورت میں وقت کے نظام سے ٹکراؤ کا اندیشہ تھا تو پیغمبر اسلام نے خفیہ انداز میں تبلیغ کی۔ اسلام میں جنگ صرف دفاع کے لئے ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جے پرکاش نرائن اور آیات اللہ خمینی جو تبدیلی لائے وہ ریولیوشن نہیں تھا۔ بلکہ کو (coupe) تھا۔ اس میں صرف سیاسی ٹیم بدلی۔ اور سماجی حالت میں کوئی حقیقی انقلاب نہیں آیا۔ ایک ہندو جرنلسٹ نے کہا کہ یہ مہاتما گاندھی کے ریولیوشن کو گھٹا کر بتاتا ہے۔ مہاتما گاندھی کا ریولیوشن پراسس کی صورت میں سماجی بدلاؤ لا رہا ہے۔ کہا گیا کہ یہ اگر پر اسس ہے تو وہ الٹے رخ (reverse direction) میں جاری ہے۔ کیونکہ ۱۹۴۷ء سے پہلے ہمارے ملک میں ایک فیصد کرپشن تھا تو آج ۱۰۰ فیصد کرپشن ہے۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ میرا مشن ہر آنکھ کے آنسو پونچھنا ہے۔ گاندھی ریولیوشن کا یہ رزلٹ ۵۰ سال بعد بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔

۲۔ بی بی سی (نئی دہلی) کے تحت ۳۰ دسمبر ۱۹۹۸ء کو ایک پینل ڈسکشن ریکارڈ کیا گیا جو ۵ دسمبر کی رات کو نشر کیا گیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں حصہ لیا۔ اس کا موضوع

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page