Al-Risala · May 1999 · page 8

ہما چل پردیش کا سفر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۸

شاید کوئی بھی ایثار رہنما نہیں جس نے معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھا ہو اور پھر حقیقت پسندانہ انداز میں مسلمانوں کو درست رہنمائی دی ہو۔

لال قلعہ اور قطب مینار کی حیثیت آج صرف آثار قدیمہ کی ہے جو گروہ لال قلعہ اور قطب مینار کی فضاؤں میں جیتا ہو وہ خود بھی آثار قدیمہ کی ایک مثال بن کر رہ جائے گا، وہ دور جدید میں باعزت مقام حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔

دہلی سے نکل کر آگے بڑھے تو سڑک کے دونوں طرف دور تک درخت اور سبزہ پھیلا ہوا تھا۔ میں نے سوچا کہ ساری کائنات کے مقابلہ میں زمین اس سے بھی زیادہ چھوٹی ہے جتنا کہ پوری زمین کے مقابلہ میں ایک ذرہ۔ مگر اب تک کی معلومات کے مطابق، زمین ہی ایک ایسی جگہ ہے، جہاں پانی اور سبزہ ہے۔ ساری وسیع کائنات میں کہیں بھی پانی اور سبزہ موجود نہیں۔ اسی پانی اور سبزہ نے زمین کو انسان جیسی زندہ مخلوق کے لئے قابل رہائش بنا دیا ہے۔ یہاں اس کے لئے نہ صرف رہائش کا سامان ہے بلکہ تمدنی ترقیوں کے لئے تمام ممکن اسباب بھی موجود ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی انتہائی عظیم نعمت ہے۔ اس کا شکر صرف یہ ہے کہ آدمی دل سے اس عطیہ کا اعتراف کرے اور اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کی تابعداری میں دے دے۔

یہ سفر مدرسہ کی کار سے ہوا۔ راستہ میں میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے پوچھا کہ ۱۹۴۷ میں جب ملک تقسیم ہوا اس کے بعد ہندوستان میں کتنے ایسے مولوی تھے جن کے پاس کار اور ٹیلی فون تھے۔ انہوں نے کچھ دیر سوچا اور پھر بولے کہ شاید ایک بھی نہیں۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ آج کیا حال ہے انہوں نے کہا کہ آج تو ملک میں ہزاروں مولویوں کے پاس کار اور ٹیلی فون موجود ہیں۔ میں نے کہا کہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایسے مولوی ہیں جن کو آج براہ راست یا بالواسطہ طور پر کار اور ٹیلی فون کی سہولت حاصل ہے۔

پھر میں نے کہا کہ مگر کوئی بھی مولوی ایسا نہیں جو تحریریا تقریر کے ذریعہ یہ اعلان کرتا ہو کہ مسلمان اس ملک میں ترقی کر رہے ہیں، نہ اکابر میں اور نہ غیر اکابر میں، بلکہ یہی لوگ ہیں جو

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page